خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 702
خطبات طاہر جلد 14 702 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 1995ء رہا ہے اور آگے بڑھاتا چلا جائے گا۔اب تو لاکھوں پر خوشی ہو رہی ہے میں وہ دن دیکھ رہا ہوں جب اس صدی سے پہلے کروڑوں کی تعداد میں ایک ایک سال میں احمدی ہوں گے۔اب فکر ہے تو سنبھالنے کا فکر ہے۔مجھے تو بس یہی ایک فکر لگا رہتا ہے کہ ان آنے والے مہمانوں کو سنبھالیں کیسے، کس طرح ان کی عزت افزائی بھی کریں اور ان کو اپنی ذمہ داریاں بھی سمجھائیں تا کہ یہ ہمارے ساتھ Dead weight کے طور پر نہ چلیں بلکہ بوجھ اٹھانے والے ساتھی بن جائیں کیونکہ جتنی آئندہ رفتار میں ترقی دکھائی دے رہی ہے اس رفتار کے ساتھ ہمیں بہت کارکنوں کی ضرورت ہے جو ان کو سنبھالیں ، ان کو ساتھ لے کر چلیں اور نئے آنے والوں میں سے ہمیں لا زماوہ تیار کرنے ہوں گے۔اس وجہ سے میں بہت دیر سے زور دے رہا ہوں کہ اگر آپ نئے آنے والوں کی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو ان پر کام کے بوجھ ڈالیں۔میرا المبا تجربہ ہے کہ جماعت احمدیہ میں جو پیدائشی احمدی بھی ہوں جب تک ان پر کام کے بوجھ نہ ڈالے جائیں وہ چمکتے نہیں۔ان کی صلاحیتیں خوابیدہ رہتی ہیں۔بعض ایسے ہیں جو یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے کنارے کے احمدی ہیں ان سے بھلا کیا کام لیا جاسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ عجیب فطرت رکھی ہے کہ مومن پر جب بوجھ ڈالا جاتا ہے تو اور ترقی کرتا ہے اور بوجھ بھی ایک ایسا بوجھ ہے جس کو اٹھا کر وہ زیادہ ہلکے قدم ہو کر اور بھی تیزی سے چلتا ہے۔اس سے پہلے اس کے قدم بو جھل ہوتے ہیں اس کا دل بھاری ہوتا ہے اس کو نماز کی طرف بھی بلاؤ تو بوجھل قدموں سے آتا ہے لیکن جب وہ اس قابل ہو کہ اس پر نماز پر لانے کی ذمہ داری ڈالی جائے تو پھر وہ ہلکے قدموں سے دوسروں کو لینے کے لئے چلتا ہے اور تھکتا نہیں ، دن کو بھی یہ کام کرتا ہے رات کو بھی یہ کام کرتا ہے۔پس بوجھ میں جو دین کا بوجھ ہے، خصوصیت سے جو اللہ کی طرف سے عائد کردہ فرائض کا بوجھ ہے حقیقت یہ ہے کہ مومن پر وہ بوجھ، بوجھ نہیں ہوتا بلکہ اسے اور بھی زیادہ ہلکا کر دیتا ہے، اس کی زندگی میں ایک تر و تازگی پیدا ہو جاتی ہے، اس کے سانس ہلکے ہو جاتے ہیں، لطف آتا ہے لیکن وہ لوگ جو مذہب سے دور ہوں جن کو مذہب سے آشنائی نہ ہو جن کو خدا کا تعارف نہ ہو جن کو اللہ سے محبت نہ ہو ان کے لئے قرآن ایک دوسری مثال پیش کرتا ہے۔ان کو جب نیک کاموں کی طرف بلایا جائے تو اس طرح چڑھتے ہیں جیسے دل کا مریض سیڑھیاں چڑھ رہا ہو اور اس کی سانس تنگ سے تنگ تر ہوتی چلی جاتی ہے۔اس کا سینہ بوجھل ہو جاتا ہے تو دیکھو ان دونوں میں کتنا فرق ہے۔ایک وہ ہیں