خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 2
خطبات طاہر جلد 14 2 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء تحریک ہوئی وہ دسمبر کے جلسہ سالانہ پہ ہوئی۔پس اس پہلی دفعہ کی نسبت سے بالعموم یہی دستور رہا ہے کہ جلسہ سالانہ میں جو بھی جمعہ آیا کرتا تھا اس میں اعلان ہوا کرتا تھا۔کبھی اگر مصروفیت کی وجہ سے وقف جدید کا اعلان نہ ہو سکے تو آئندہ سال جنوری کے پہلے جمعہ میں یہ اعلان ہو جا تا تھا۔تو امسال بھی چونکہ قادیان کے جلسے کے سلسلے میں بہت سے امور پر گفتگو ہوئی تھی اس لئے یہی فیصلہ ہوا کہ ہم جنوری کے پہلے خطبے میں ہی وقف جدید کا اعلان کریں گے۔وقف جدید حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریکات میں سے آخری تحریک ہے لیکن چونکہ الہی منشاء کے مطابق جاری ہوئی تھی اس لئے اس سے متعلق آپ کو بہت ہی مبشر رویا بھی دکھائی گئیں اور جو ولولہ آپ کے دل میں پیدا کیا گیا اس کا یہ حال تھا کہ آپ نے ایک موقع پر فرمایا میرے دل میں اتنا جوش ہے اس تحریک کے لئے کہ اگر جماعت میراساتھ نہ دے، جو ویسے ناممکن بات تھی۔مگر احتمالاً ایک فرضی ذکر کے طور پر بعض دفعہ انسان یہ دلیل قائم کرتا ہے، تو اپنے قلبی جوش کے اظہار کے لئے آپ نے فرمایا کہ اگر جماعت میرا ساتھ نہ دے تو مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں ، اپنے کپڑے بیچنے پڑیں تب بھی میں ضرور اس تحریک کو جاری کر کے رہوں گا اور یہ بیماری کے ایام کا آپ کا عزم ہے جبکہ بیماری کے ایام میں ارادے کمزور پڑ جایا کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وقف جدید کو جو خدا تعالیٰ نے بعد میں برکتیں عطا فرما ئیں وہ اس بات کی مظہر ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں یہ تحریک الہی تحریک ہی تھی اور جو ولولہ اللہ نے ڈالا تھا وہ الہی ولولہ ہی تھا جو ساری جماعت کے دلوں میں منتقل ہونا شروع ہوا یہاں تک کہ یہ تحریک اب خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت مستحکم ہو چکی ہے۔قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان کا ترجمہ یہ ہے کہ تمہارے اموال اور اولا دیں محض فتنہ ہی تو ہیں إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ۔یہ ایک محض فتنہ ہی ہیں تمہارے لئے آزمائش کا ایک ذریعہ بنی ہوئی ہیں ورنہ تم اولا دوں کو چھوڑ کر جب واپس چلے جاتے ہو تو کچھ بھی ساتھ نہیں لے کے جاتے۔جب اموال کو چھوڑ کر چلے جاتے ہو تو خالی ہاتھ جاتے ہو۔آزمائش میں جو تم پورے اترتے ہو وہی تمہاری دولت ہے یعنی وہی مال تمہارا ہے جو آزمائش میں پورا اترنے کے نتیجے میں نیک راہوں پر خرچ ہو اور اس کا حساب خدا تعالیٰ کے نزدیک دوسری دنیا میں منتقل