خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 690
خطبات طاہر جلد 14 690 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء جماعت کی دعاؤں کو سنا اور آپ اس آواز کو سن رہے تھے یا نہیں سن رہے تھے مگر آسمان یہ آوازیں دے رہا تھا ؤ ا كِيْدُ كَيْدًا اے میرے مظلوم، معصوم بندو، میں بھی ایک تدبیر کر رہا ہوں۔فَمَهْلِ الْكَفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدا تم کچھ نہیں کر سکتے تو اب دشمن کو اپنے حال پر چھوڑ دو اور دیکھو کہ میری تدبیر جب نازل ہوگی تو ان کی تدبیروں کا کیا ر ہے گا۔اب آسمان سے MTA کے ذریعے خدا نے گھر گھر آوازیں پہنچانے کا نظام جاری فرمایا ہے یہ الہی تدبیر ہے جس کا ذکر اس آیت میں ملتا ہے واکیدُ كَيْدًا اور جب ظاہر ہوتی ہے تو بالکل مایوس اور نا کام اور قتل کر کے رکھ دیتی ہے دشمن کو کوئی پیش نہیں جاتی ،کوئی چارہ نہیں رہتا۔آج ہی کی ڈاک میں ایک دشمن احمدیت اخبار کی ایک کٹنگ مجھے موصول ہوئی اس میں جیسا کہ ان کی عادت سے بڑے بول بھی بولے گئے کہ ہم یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں کے۔مگر ہر پیرے میں کچھ سطریں مایوسی کے اظہار کی ایسی تھیں کہ جس سے یہ پتا چلتا تھا کہ اب ان کی کچھ بھی پیش نہیں جاسکتی۔بار بار ایم ٹی اے کو ستے تھے کہ دیکھو اور حالت یہ ہے ان کی حماقت کی اور ظلم کی کہ دیکھو انگریز کا لگایا ہوا پودا MTA کے ذریعے تمام دنیا کو گمراہ کر رہا ہے اور امت محمدیہ کروڑوں کروڑ ہونے کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ، ان کی راہ میں کوئی روک حائل نہیں کر سکتی۔کس قدر ظلم کی بات ہے یعنی ایک طرف انگریز کو رکھ رہے ہیں دوسری طرف محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کو اور اقرار یہ کر رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی امت انگریز کے پودے کے مقابل پر بالکل ناکارہ اور بے کار ہو کے بیٹھ گئی ہے، کچھ بھی اس میں طاقت باقی نہیں رہی۔کاش ان کو یہ سمجھ آتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی تو پیشگوئی فرمائی تھی۔آپ نے دشمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم سمجھتے ہو کہ میں انگریز کا لگایا ہوا پودا ہوں، میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں یہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الفاظ استعمال کئے مگر میں تمہیں خبر دار کرتا ہوں کہ اس دھو کے میں نہ رہنا میں خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہوں اور ناممکن ہے کہ خدا کسی کو یہ طاقت دے کہ اس پودے کو اکھاڑ پھینکے۔آپ نے فرمایا جو تدبیریں تمہاری طاقت میں تھیں تم کر بیٹھے ہو اور بھی کر رہے ہو ، دعا کی تدبیر بھی استعمال کر کے دیکھ لو۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا یہ مشورہ اپنی ذات میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی ایک عظیم دلیل ہے۔وہ دشمن جو خدا والا ہونے کا دعوی کر رہا تھا اس کو دعا کی ہوش نہیں تھی اور جس کو