خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 689 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 689

خطبات طاہر جلد 14 689 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء طاقت سے بڑھ کر معاملہ ہے۔تب یا درکھنا کہ اگر تم میری طرف جھکو گے تو میں آسمان پر سے ایک تدبیر کروں گا اور وہ تدبیر جب ظاہر ہوگی تو دشمن کی ہر تدبیر کے چھکے چھڑا دے گی اور ہر تد بیرکو نا کام اور نا مراد کر دے گی۔پس دعوت الی اللہ کرنے والوں کو آنحضرت ﷺ پر نظر رکھنی چاہئے ، آپ کے اسوہ سے نصیحت پکڑنی چاہئے ، آپ کے راہ سے راہ عمل حاصل کرنی چاہئے اور اس طریق پر اگر آپ بیداری مغزی سے دشمن کی کارروائیوں پر نظر رکھیں گے۔جوابی کارروائی جس حد تک ممکن ہے کریں گے لیکن دعا کرتے رہیں گے کہ اے خدا اپنی آسمانی تدبیر ظاہر فرما تو کمزوری کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ آپ کو بڑے بڑے عظیم ممالک اور بڑی بڑی عظیم قوموں کی فتوحات کی خوشخبریاں عطا کرے گا۔یہ وہ نعرہ تکبیر ہے جو حقیقت میں آسمان کے کناروں تک پہنچتا ہے اور آسمان کے کنارے اس کی قوت سے لرزنے لگتے ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ آپ اس طرف نظر کرتے ہوئے الہی تدبیر کے لئے دعائیں کریں گے اور یہ تدبیر ظاہر ہو بھی چکی ہے اور ہوتی چلی جارہی ہے۔اگر آپ آنکھیں بند کر لیں تو الگ بات ہے مگر آپ نظر ڈال کے دیکھیں کہ پاکستان کے علماء نے اور پاکستان کی حکومت نے آپ کے خلاف کیا تدبیر کی تھی۔وہ ایسا وقت تھا جبکہ جماعت کے بس میں کچھ بھی نہیں تھا، بالکل ناطاقتی کا عالم تھا۔یہ اطلاع ملتی تھی کہ اب یہ منصوبہ بنا ہے، اب یہ منصوبہ بنا ہے، اب یہ آرڈنینس جاری ہو رہا ہے، اب یہ کاروائیاں کی جارہی ہیں۔جواب میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے۔ایسی حالت تھی کہ کچھ کرنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں تھی۔اس وقت سوائے دعا کے اور کوئی توجہ نہیں تھی۔دن رات خدا کے حضور جماعت رو رہی تھی اور گڑ گڑا رہی تھی کہ اے خدا تو ہی ہے ہمارا، ہمارا دنیا میں اور کچھ نہیں ہے۔اب دیکھو دشمن کے منصوبوں کو خدا نے کیسا الٹایا۔اس منصوبے کا آخری مدعا یہ تھا کہ آپ کی آواز میں گھونٹ دی جائیں گلوں میں۔آپ کو اذان تک کہنے کی اجازت نہ ملے۔آپ کلمہ لا الہ الا اللہ بھی بلند آواز سے نہ پڑھ سکیں اور پاکستان میں کہیں ایک جگہ بھی جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچانے کی جماعت کو استطاعت نہ رہے۔یہ وہ منصوبہ ہے جس کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ اِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا بڑا سخت منصوبہ بنارہے ہیں ظالم لوگ۔ایسی تدبیر کہ اگر چل جائے تو سارا نظام جماعت بالکل معطل اور مفلوج ہو کے رہ جاتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس بے قرار