خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد 14 685 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء صلى الله یہاں بسا اوقات پڑھنے والے کو یہ دھوکا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ کام چھوڑ دو اور ایک طرف بیٹھ رہو اب اللہ کے اوپر معاملہ جا پڑا ہے۔ہر گز یہ مراد نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ اول تو مخاطب آنحضرت ﷺ ہیں اور آنحضرت ﷺ کا تو ایک لمحہ بھی غفلت کا لمحہ نہیں تھا۔دن رات جو کچھ بھی طاقت میں تھا خدمت دین میں جھونک رکھا تھا۔اپنی جان، مال، عزت ہر چیز فدا کر دی تھی خدا کی خاطر، ایک لمحہ بھی آپ کا ضائع نہیں ہورہا تھا۔پس آنحضرت کے مخاطب ہوں اور اس کا ترجمہ آیت کا یہ لیا جائے کہ اب تو آرام سے ایک طرف بیٹھ رہ، کام چھوڑ دے صرف انتظار کر، یہ درست نہیں ہے۔بالکل ناجائز تر جمہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تو کر سکتا تھا وہ تو کر رہا ہے۔جو کچھ تیرے قبضہ قدرت میں تھا وہ سب تدبیریں تو نے کر ڈالیں لیکن دشمن کی تدبیروں تک تیری رسائی اس لئے نہیں ہے کہ دشمن بہت زیادہ ہے اور مسلسل اندھیروں میں سازشیں کر رہا ہے۔اس لئے سرحدوں پر گھوڑے باندھنے کے بعد، ہر قسم کی مستعدی کے بعد، وہ اندھیرے گوشے جو پھر بھی باقی رہ جاتے ہیں اور لا زمرہ جاتے ہیں ان کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے اور مراد یہ ہے کہ سب کچھ ہو رہا ہے پھر بھی جس حد تک جوابی کارروائی کی ضرورت تھی وہ مومنوں کی استعداد سے باہر ہے۔اس موقع پر اللہ یقین دلاتا ہے اور یہ وعدہ کرتا ہے کہ کچھ ایسی جوابی کارروائی ہے جو میں کر رہا ہوں، تمہیں اس کی خبر ہی کچھ نہیں اور وہ آسمان سے جاری ہے۔مہلت دے دے، ان معنوں میں کہ اپنا جہاد تو جاری رکھ مگر ان کو بتا دے کہ کچھ ہونے والا ہے اور جو ہو گا وہ آسمان سے اترے گا اور جب وہ آسمانی کا رروائی آئے گی تو تمہاری کچھ بھی پیش نہیں جائے گی۔یہ پیغام ہے اس آیت کریمہ میں۔پس دعا کے ذریعے اس الہی نظام کو متحرک کرنا مومن کے لئے از بس ضروری ہے۔اس کی بقاء کے لئے ضروری ہے۔اس کے تبلیغی پروگرام کو کامیابی سے آخر تک پہنچانے ، جو پھل ملتے ہیں ان کو سمیٹنے ، ان کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ انسان دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ان کا رروائیوں کی التجا کرتا رہے جن کا مومن کی کوششوں سے کوئی تعلق نہیں اَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا کا مطلب ہے تیری کوششوں کا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔جب خدا کی تدبیر ظاہر ہوگی تو تمہیں حیران کر دے گی کہ کیسے وہ واقعہ رونما ہوا۔