خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 684
خطبات طاہر جلد 14 684 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء ہوں وہ دین کے کاموں کے لئے دعا ہے جس کے لئے بے قراری پیدا ہو اور ایک ذہن ہر وقت اس بات پر تیار ہو کہ جب بھی دین کو کوئی خطرہ لاحق ہوگا میرا دل بے قراری سے اللہ کے حضور جھکے گا اور یہ عادت بن جائے ، ایک فطرت ثانیہ ہو جائے کہ جب بھی دین کو کسی نقصان کا خطرہ ہو بے اختیار دل سے بے قرار دعائیں اٹھیں اور جب بھی دشمن سے مقابلہ ہو دعاؤں کے ساتھ طاقت پانے کے ذریعے آپ جوابی کارروائی کریں۔اس کے نتیجے میں بہت سی برکتیں ملتی ہیں جن کا حقیقت میں تو شمار ممکن نہیں۔مگر ان قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے کہ جوابی کارروائی کے لئے دماغ روشن ہو جاتا ہے اور وہ وہ باتیں سوجھتی ہیں جو بغیر دعا کے سوجھ نہیں سکتیں۔دوسرے یہ کہ عمل کی توفیق ملتی ہے۔ورنہ محض اچھی تدبیریں سوچنا بھی کافی نہیں ہوا کرتا جب تک ان کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق بھی نصیب نہ ہوا اور پھر غیب سے ایسے نشان ظاہر ہوتے ہیں کہ دعا گو، دعا کرنے والے کا دل پورے یقین سے بھر جاتا ہے کہ یہ میری کوشش کا دخل نہیں بلکہ یقیناً بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائیدی نشان ظاہر ہوا ہے اور وہ نشان اپنی ذات میں ایک طاقت رکھتا ہے، ایک ایسی عظیم قوت رکھتا ہے جسے شکست دینا دشمن کے بس کی بات نہیں ہے۔تو وہ جماعتیں جو تبلیغ میں مصروف ہوں ، اللہ کے کام میں مصروف ہوں اور اللہ سے مدد لینے میں غافل ہوں ان کی حالت تو بہت قابل رحم ہے۔خدا کی خاطر وقت خرچ کر رہے ہیں ، محنت کر رہے ہیں، کام اس کا ہے مگر مدد کے لئے اس کو نہیں بلاتے حالانکہ اس کی مدد کے بغیر کوئی کام بھی ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک اپنا نظام بھی جوابی کارروائی کا بنا رکھا ہے اور اس جوابی کارروائی کے نظام کا دعا سے تعلق ہے۔جب مومن خدا کو پکارتا ہے تو ایک نظام ہے جو پہلے ہی سے موجود ہے وہ متحرک ہو جاتا ہے۔اس نظام کا ذکر ان آیات میں ہے جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَاكِيْدُ كَيْدَانٌ فَمَهْلِ الْكَفِرِيْنَ أَمْهِلُهُمْ رُوَيْدًا کہ میں جانتا ہوں کہ دشمن تدبیریں کر رہے ہیں اور بڑی بڑی تدبیر میں کر رہے ہیں۔يَكِيدُونَ كَيْدًا کا مطلب ہے بڑی زبر دست تدبیریں کر رہے ہیں۔وَاكِيْدُ كَيْدًا، میں بھی تدبیر کر رہا ہوں۔فَمَقِلِ الْكَفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا کافروں کو اپنے حال پر تھوڑی دیر کے لئے چھوڑ دے اور دیکھ کہ پھر میری تدبیر کیا نتیجہ ظاہر کرتی ہے۔