خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 674
خطبات طاہر جلد 14 674 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء بیعتوں کو دگنا ہوتا ہوا دیکھیں۔پس امسال جس کے ذکر سے میں نے بات چلائی ہے اللہ نے بے انتہا احسان فرمایا ہے۔جو تصور میں بھی آ نہیں سکتی تھی کہ ہماری طاقت میں یہ ہوگی ہماری گناہ گار آنکھیں خدا کے ان احسانات کو دیکھیں گی۔ہم سب نے دیکھا اور پھر آنکھوں نے تشکر اور حمد کے آنسوؤں کے دریا بہا دیئے کہ اے خدا کیسی تیری شان ہے ایک مقام محمود سے تو نے دوسرے مقام محمود میں داخل کرنے کے لئے ہمیں پہلے سے نکالا اور صدق کے ساتھ نکالا۔لفظ صدق میں ہی اس بات کی چابی ہے کہ اگلا بھی مقام محمود ہی ہوگا حالانکہ دوبارہ مقام محمود کا ذکر نہیں فرمایا۔مگر پہلے بھی داخل ہوتے وقت لفظ صِدْقٍ رکھ دیا جس کا مطلب تھا کہ سچائی کے ساتھ داخل ہورہے ہیں، اچھی چیز ملے گی۔سچائی کبھی اندھیروں میں داخل نہیں کیا کرتی۔سچائی کبھی ظلمات کے تحفے لے کر نہیں آتی۔پس صدق میں اس سارے مضمون کو سمجھنے کی چابی ہے۔جب فرمایا و اَخْرِجُنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ تو مطلب یہ تھا کہ جیسے صدق سے داخل فرمایا ویسے ہی صدق سے نکالنا اور یہ صدق اور بھی نیکیوں کے پھل ہمارے لئے لائے۔پس اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شمار ممکن نہیں۔اس نے صدق کے ساتھ ہمیں اس مقام محمود سے نکال کر پھر آٹھ لاکھ سے اوپر کے مقام محمود میں داخل فرما دیا۔اب بھی یہی تمنا ہے، اب بھی یہ دعا ئیں ہیں رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ سُلطَنَّا نَصِيرًا تو ساری جماعت جو سلطان نصیر بن کران دعاؤں کو پورا کرنے میں مددگار بنی ہوئی ہے۔یہ وہ سُلطَنَّا نَصِيرًا ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا ہو رہے ہیں اور پھر مزید دلوں میں جب خدا غیب سے وحی کے ذریعے جماعت کی طرف ان کے دلوں کی توجہ پھیرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور احمدیت کی محبت ان کے دلوں میں بھر دیتا ہے تو پھر اور بھی سُلْطنًا نَّصِيرًا ہمیں عطا ہوتے ہیں۔پھر بہت سے اور ذرائع ہیں سُلْطنًا نَّصِيرًا عطا کرنے کے جن کا مشاہدہ عالمگیر جماعت کرتی آرہی ہے اور انشاء اللہ کرتی چلی جائے گی۔مگر لفظ صدق کا ایک تعلق ما قبل سے بھی ہے اور اسی تعلق نے میری توجہ ابتدائی آیات کی طرف پھیری۔صدق قیام عبادت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔پائے صدق عبادت پر ہے اور عبادت کے بغیر کسی کو پائے صدق