خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 673 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 673

خطبات طاہر جلد 14 673 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء داخل فرمایا تھا اب اس مقام سے نکال لیکن ایک اور بڑے مقام کی طرف جو اس سے زیادہ شاندار اور زیادہ سکینت بخشنے والا ہو۔پس اللہ نے آپ کے دیکھتے دیکھتے ہمیں وہ دوسرا مقام محمود بھی عطا فرما دیا اور جب وہ مقام آیا تو دل پھر حمد سے بھر گئے، طبیعتوں کو ایک سکینت نصیب ہوئی کہ اب تو ہم دولا کھ احمدیوں کی خوش خبری پا کر اپنے دلوں کو ٹھنڈا کر رہے ہیں مگر بہت جلد وہی سکینت ایک قسم کی بے چینی اور ایک نئی پیاس میں تبدیل ہوگئی اور ہم نے یہ دعائیں مانگنی شروع کیں کہ اے خدا بہت مزہ آیا، بے حد تیرے احسان مند ہیں۔شکروں کا تو حق ادا نہیں کر سکتے۔مگر تو نے جو فطرت ہمیں بخشی ہے یہ پیاسی فطرت ہے۔جب ایک نعمت کو پالیتی ہے تو اس نعمت سے واقفیت کے نتیجے میں نعمت کا احساس بھی کم ہوتا چلا جاتا یہ اور جتنا زیادہ نعمت سے واقفیت بڑھتی جائے اس کے وجود کا احساس، اس کے شکر کا احساس کم ہوتا چلا جاتا ہے۔پس ہمیں اس مقام سے بھی نکال ، ایک اور مقام محمود میں داخل فرما اور پھر چار لاکھ کی تمنادل میں مچلنے لگی اور لگتا تھا کہ بہت بڑی دعا ہے۔لیکن اللہ نے آپ کے دیکھتے دیکھتے اور میرے دیکھتے دیکھتے وہ چارلاکھ کی تمنا بھی دیکھیں کس شان سے پوری فرمائی اور ہمیشہ دگنے سے کچھ بڑھا کر دیا۔ایک عجیب کیفیت تھی اس جلسے پر جب چار لاکھ بیعتیں ہو رہی تھیں۔بہت سی آنکھوں سے آنسورواں تھے۔ان آنکھوں سے بھی جو حاضرین کی ، موجودلوگوں کی آنکھیں تھیں اور ان آنکھوں سے بھی جو دور سے نظارہ کر رہی تھیں ٹیلی ویژن کے ذریعے اور کثرت سے مجھے دور دراز کے ملکوں سے خط ملے کہ ہماری نظریں اپنے ہی آنسوؤں سے دھندلا جاتی تھیں۔جو نظارہ ہمیں جان سے بھی زیادہ پیارا تھا خوشی کے آنسوؤں سے روتے روتے وہ نظارہ بسا اوقات نظروں سے غائب ہو جاتا تھا۔ایک عجیب کیفیت تھی جس کا بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔تو بہت لطف آیا کئی دنوں، ہفتوں ہم انہی کیفیات میں ڈوبے ہوئے، انہی خوابوں میں بسے رہے۔مگر پھر میں جانتا ہوں کہ جیسے میرے دل کی حالت تھی ویسے ہی آپ سب کی بھی ہوگی کہ اے خدا اب یہ خوشیاں دیکھ لیں ان کے مزے اڑالئے مگر تو تو کہتا ہے کہ ہر مقام محمود کے بعد نکلنے کے رستے ہیں اور وہ نکلنے کے رستے اور مقامات محمود میں ہیں۔پس ہمیں اس مقام میں سے بھی نکال لیکن صدق کے ساتھ نکال۔جیسے پہلے صدق سے داخل فرمایا تھا اسی طرح صدق سے نکال اور ایک اور مقام محمود میں داخل فرما دے اور ہم پھر آئندہ سال