خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 672
خطبات طاہر جلد 14 672 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء دینا مگر زیادہ دیر نہ ٹھہرانا وہاں میری اگلی دعا بھی سن لے مجھے جلدی سے اس مقام سے نکال کر باہر کر۔ہرگز نہیں۔یہ نہایت ہی جاہلانہ ترجمہ ہے۔اس کا ایک ہی ترجمہ ممکن ہے کہ اے میرے خدا ایک مقام سے نکال کر دوسرے مقام میں داخل کرتا چلا جا، ایک مقام میں داخل فرما اور پھر میں دعا کروں گا کہ اے خدا یہ مقام میرے لئے چھوٹا ہو گیا ہے اور قرب کے مقامات کا خواہاں ہوں،اس مقام سے میری سیری نہیں ہورہی۔پس مجھے اس سے نکال۔مگر کہاں؟ ایک اور مقام محمود میں تا کہ یہ سلسلہ جاری رہے اور اس سلسلے میں میرے لئے سلطان نصیر عطا فرماتا چلا جا کیونکہ بلند سے بلند تر مقامات کی طرف جانا خود انسان کی اپنی طاقت سے ممکن نہیں ہے۔لازم ہے کہ اس کو غیب کی طرف سے ایسے سلطان عطا ہوں اللہ کی طرف سے جو اس کی نصرت کی طاقت رکھتے ہوں۔پس حقیقت میں جب میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں جب سے جلسہ سالانہ یو کے ہوا ہے اس مضمون پر غور کر رہا ہوں اور فکرمند ہوں اور دعا بھی کرتا ہوں ، تو کل جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا جواب سمجھایا تو یہ جو آیت میں نے ابھی پڑھی ہے اور اس کے ساتھ سلطان نصیر کا جو ذکر ہے اس کے ذریعہ مجھ پر یہ مفہوم حقیقت میں روشن ہوا اور پھر توجہ اس طرف ہوئی کہ ان آیات کو اچھی طرح اکٹھا پڑھا جائے تو سارا مضمون کھل کر سامنے آ جائے گا۔یہاں سلطان نصیر کی طرف توجہ اس لئے میرے دل میں پیدا ہوئی کہ ہم بھی تو ایک مقام محمود سے ایک اور مقام محمود کی طرف سفر کر رہے ہیں لیکن یہ مقامات ٹھہرے ہوئے مقامات نہیں ہیں۔کچھ عرصہ پہلے جب ہماری دعا ئیں تھیں، التجائیں تھیں اور کچھ تعجب بھی ہوتا تھا کہ کتنی بڑی بات مانگ رہے ہیں۔ہم خدا سے سال میں ایک لاکھ بیعتوں کی دعا کرتے تھے تو اس سے پہلے جو بیعتیں ہوتی تھیں وہ بھی تو اللہ کے فضل تھے ، وہ بھی تو ایک قسم کے مقام محمود تھے مگر جب ایک لاکھ بیعت کا مقام آیا تو دل حمد سے بھر گیا اور خوشیوں سے لبریز ہو گیا کہ بہت بڑی منزل طے کی ہے ایک مقام محمود ایسا ملا ہے جس کی مدت سے تمنا رکھتے تھے۔مگر بہت جلد وہ مقام پرانا ہو گیا۔بہت جلد دل میں یہ احساس ہوا کہ جب تک دونہ مانگیں ہماری تشنگی نہیں مجھے گی۔پس اے خدا ہمیں اس مقام سے نکال دے، واپسی کی طرف نہیں بلکہ آگے کی طرف نکالنے کی دعا دل سے طبعی طور پر اٹھی ہے اور مسلسل اٹھتی رہی اور زیادہ شدت کے ساتھ اٹھتی رہی۔وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ اے خدا جس طرح صدق کے ساتھ تو نے اس مقام محمود میں