خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 671

خطبات طاہر جلد 14 671 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء مقام ہے۔ایسا مقام ہے جو ہاتھ پکڑ کر ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے اور قدم نہیں روکتا بلکہ قدم آگے بڑھانے میں مد ثابت ہوتا ہے۔پس یہ وہ مقام نہیں ہے جس کو میم کی پیش سے پڑھا جاتا ہے جو ایک معین جگہ کا نام ہے۔عربی میں مقام بھی ایک لفظ ہے جو اکثر استعمال ہوا ہے یعنی قرآن کریم میں اکثر آیات میں لفظ مقام استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے ایک ٹھہری ہوئی جگہ، ایسی جگہ جہاں آپ اتر سکتے ہیں، جہاں آپ رات بسر کر سکتے ہیں یا کچھ دیر کے لئے بسیرا کر سکتے ہیں یا لمبے ڈیرے ڈال سکتے ہیں۔ہر ایسی جگہ جو آپ کے ٹھہرنے کی جگہ ہو یا جانوروں کے ٹھہرنے کی جگہ ہوا سے مقام کہا جاتا ہے۔مگر یہاں اللہ تعالیٰ نے مقام نہیں فرمایا عَلَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا دیکھو ممکن نہیں بلکہ عین ممکن ہے بلکہ لازم ہے کہ تجھے اللہ تعالیٰ مقام محمود تک پہنچا دے اس تہجد کے ذریعے جس کا ذکر کیا گیا ہے اور مقام کسی ٹھہری ہوئی جگہ کا نام نہیں ہے۔مقام خدا کے حضور ایک مرتبے کا نام ہے اور خدا کے حضور مومن کا مرتبہ کسی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا بلکہ مسلسل بڑھتا ہے اور اس کے بغیر وہ مرتبہ ہے ہی نہیں جو مرتبہ بڑھنے والا نہ ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔اس مضمون کو مزید کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاخْرِجُنِى صِدْقٍ جب مقام محمود تجھے عطا ہوگا یا ہورہا ہے اور ایسے مقام کے اندر تو سفر کر رہا ہے جہاں پہلے بھی مقام مل چکے ہیں لیکن آئندہ مسلسل ملتے رہیں گے۔عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ کا یہ ترجمہ آنحضرت ﷺ کے تعلق میں لازم ہے بلکہ اس کے سوا کوئی ترجمہ ممکن نہیں ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ پہلے مقام محمود عطا نہیں ہوا تھا آئندہ خدا عطا کرے گا مراد یہ ہے کہ ممکن نہیں بلکہ یقینی ہے کہ خدا تجھے مقام محمود عطا کرتا چلا جائے۔يبعث کا معنی ” کرتا چلا جائے“ کریں تو پھر مضمون ٹھیک بیٹھتا ہے ورنہ اکھڑ جاتا ہے اور اگلی آیت اسی کی تائید فرمارہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دعا کر کہ اے میرے رب اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ اے میرے رب مجھے داخل فرما اس مقام میں صدق کے ساتھ وَ اَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ اور اس سے نکال دے صدق کے ساتھ۔تو کیا مقام محمود سے نکلنے کی دعا سکھائی گئی ہے؟۔یہ سوچنے کی بات ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو یہ دعا سکھائے کہ اے میرے رب مجھے مقام محمود عطا تو کر