خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 670 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 670

خطبات طاہر جلد 14 670 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء جبکہ ایک نئی صبح پھوٹنے والی ہے یا پھوٹ رہی ہو۔اس روحانی انقلاب کے وقت قرآن سے کام لو، قرآن کی تلاوت ہی ہے جو اس فجر کو حقیقت میں روشن بنادے گی۔اس لئے عبادت کے قیام کے بعد قرآن کریم کی تعلیم کی طرف ایک گہری توجہ ہے۔اس سلسلے میں کچھ مزید باتیں کہ ہم کس طرح ان مسائل کو حل کریں گے اور خدا تعالیٰ نے کون کون سے راستے ہمارے لئے کھولے ہیں انشاء اللہ میں الوداعی خطاب میں آپ سے کروں گا۔لیکن اس وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن الفجر کے بعد پھر فرمایا وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ که عبادت کا قیام بھی کافی نہیں ہے جب تک اس میں نوافل کے اضافے نہ ہوں اور خصوصیت کے ساتھ رات کو محنت نہ کی جائے۔پس قیام تہجد مشکل مسائل کا حل ہے اور حقیقت یہ ہے کہ تہجد کی نماز ہی وہ نماز ہے جس کی رسائی سات آسمانوں سے پرے تک لازماً ہوتی ہے اور دوسری نمازوں کی دعاؤں کا تہجد کی نماز کی دعاؤں سے رشتہ تو ہے مگر نسبت وہ کوئی نہیں ہے۔حیرت انگیز تبدیلیاں لانے کی طاقت تہجد کی دعائیں رکھتی ہیں۔ورنہ روز مرہ صبح کی پانچ نمازیں تو پڑھنے والے بے شمار ہیں۔وہ جو ان میں سے چند راتوں کو اٹھتے ہیں یا چندان میں سے جو راتوں کو اٹھتے ہیں اور خدا کی خاطر جب دنیا ان کو نہیں دیکھ رہی ہوتی محض اپنے رب کی محبت کے اظہار کے لئے اندھیروں میں کھڑے ہو جاتے ہیں ان کی دعا ئیں ایک غیر معمولی طاقت رکھتی ہیں اور ان کی دعاؤں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ عظیم الشان مقامات مومن کو عطا ہوتے ہیں۔تو فرمایا وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا اب نماز کتنی پیاری چیز ہے اور تلاوت قرآن بھی دیکھو کتنی اچھی چیز ہے مگران کے نتیجے کے طور پر مقام محمود کا وعدہ نہیں فرمایا۔مقام محمود کا وعدہ فرمایا تو تہجد کے ساتھ وعدہ فرمایا فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ یہ قرآن جو ہے جس کی صبح تلاوت کا ہم نے حکم دیا ہے اس قرآن ہی کے ذریعے رات کو تہجد پڑھا کر اور اسی کے ذریعے اندھیروں کا جہاد کر۔نَافِلَةً لَّكَ یہ فرض نہیں ہے، محض نفل ہے۔مگر اتنا طاقتور نفل کہ فرمایا لَّكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ہرگز بعید نہیں بلکہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے مقام محمود پر فائز فرمادے۔اب مقام محمود کی تعریف وہ فرما دی کہ جو کوئی کھڑا مقام نہیں ہے بلکہ مسلسل جاری وساری