خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 669 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 669

خطبات طاہر جلد 14 669 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء کونماز کی اہمیت بتانے کے لئے ایک نظام جاری کریں اور اس نظام کی مسلسل نگرانی رکھیں۔تا کہ ایک آپ کا طبقہ جو نئی زمینیں فتح کرنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اس کے پیچھے پیچھے یہ سنبھالنے والا طبقہ بھی قائم ہوتا چلا جائے جو نئے آنے والوں کو سنبھالے اور ان کے تمام حقوق ادا کرے اور ان کی ساری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو۔یہی وہ ایک طریق ہے جس کے ذریعے سے ہم خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مزید تیزی کے ساتھ بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اور ہمیں پچھلے پھلوں کی فکر نہیں رہے گی کیونکہ پچھلوں کو سنبھالنے کا نظام بھی ہم جاری کر چکے ہوں گے۔تو ان آیات میں سب سے پہلی توجہ نماز کی طرف ہوئی اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے بہتر گر غلبہ اسلام کا استقلال اور استقامت بخشنے کا اور کوئی نہیں۔دوسری بات جو ان آیات کریمہ میں سمجھائی گئی ہے وہ اس سے اگلا قدم ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل :79) قرآن کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ دو اور قُرآنَ الْفَجْرِ بتاتا ہے کہ وہ دور جبکہ پو پھوٹ رہی ہو اور نیا دن چڑھ رہا ہو اس وقت قرآن کی تلاوت بہت ضروری ہے۔قُرآنَ الْفَجْرِ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ صبح کے وقت تلاوت کی جائے اور یہ بہت ہی پیاری چیز ہے۔جن گھروں میں صبح کی تلاوت کی عادت ہو اللہ کے فضل کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی فجر قرآن ہی کے ذریعے پھوڑتا ہے۔قُرآنَ الْفَجْرِ ان کے لئے ایک نیا پیغام لے کر آتا ہے۔لوگوں کی صبح وسورج کے چڑھنے سے ہوتی ہے مگر ان کی صبح قرآن کا نور صبح ان کے گھروں میں پھوٹنے سے ہوتی ہے اور اس سے بہتر اور کون سی صبح ہو سکتی ہے۔مگر اس کے ساتھ ایک اور پیغام بھی ہے قُرآنَ الْفَجْرِ یہ وہی فجر ہے جس کا سورۃ القدر میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کا نور ایک اندھیری رات سے پھوٹا ہے تو پھر حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر:6) سلام ہی سلام تھا۔هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔یہاں تک کہ مطلعِ الْفَجْرِ ہو اور وہ مجسم سلامتی تھا۔تو فجر کا ایک معنی ایک عظیم روحانی انقلاب ہے جو اندھیری راتوں کو روشنیوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔پس جس نسبت سے میں اس آیت کی تفسیر آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اس نسبت کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں فجر کا ترجمہ نئے روحانی دور سے کیا جائے