خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 668 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 668

خطبات طاہر جلد 14 668 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء کر دل کی بھڑ اس نہ نکالتے ہوں، ان پر ہاتھ اٹھا کر اپنے دل کا غصہ نہ اتارتے ہوں تو پھر ان کے لئے سوائے دعا کے چارہ ہی کچھ نہیں رہ جاتا۔بلاغ اور مسلسل بلاغ اور پھر دعا ئیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو جب ایک صحابی کے متعلق یہ شکایت پہنچی کہ وہ اپنے بچوں پر تربیت کے لحاظ سے بہت سختی کرتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور آپ کی ناراضگی میں بے حد بے قراری پائی جاتی تھی۔آپ نے کہا تم کیا سمجھتے ہو اپنے آپ کو، تم تو مشرک ہو رہے ہو۔کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے بچوں کی تربیت تمہارے اختیار میں ہے۔تم اپنے نفس کا غیظ اتار رہے ہو، تربیت کا کوئی شوق نہیں ، نہ تمہیں تربیت کی اہلیت ہے۔مغلوب الغضب ہو کر تم بچوں کو مارتے ہو اور مزید گنہ گار بنتے ہو کیوں دعا نہیں کرتے کیونکہ انسان جب نصیحت کر کے بے چارگی محسوس کرتا ہو، بے بسی محسوس کرتا ہو تو دعا کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے اور دعا میں یہ طاقت ہے کہ وہ عظیم انقلاب برپا کرے لیکن اس دعا میں نہیں جو محض خشک ہونٹوں سے اٹھتی ہو، جس کے پیچھے یہ بلاغ کا تفصیلی پس منظر نہ ہو۔پس محنتیں کرنی ہوں گی پورے اخلاص کے ساتھ ، تمام سوسائٹی کو نماز کے ذریعے زندہ کرنے کا عزم لے کر اٹھنا ہوگا اور ہر نئے آنے والے کونماز کا پیغام دینا ہوگا۔مگر پاک، نیک نصیحت کے ذریعے، نیک نمونوں کے ذریعے تھوڑا تھوڑا سکھا کر پیار اور محبت سے۔اگر زیادہ نہیں تو شروع میں ایک نماز ہی کا عادی بنا ئیں اور پھر رفتہ رفتہ اللہ کے حوالے اس طرح کرتے چلے جائیں کہ اللہ خود ان کو سنبھال لے اور آئندہ ان کی تربیت براہ راست خدا کے سپر د ہو۔ہم واسطہ تو ہیں مگر حقیقت میں وہ سب تربیت اللہ ہی کی ہے۔مگر اسی کا بنایا ہوا نظام ہے کہ کچھ عرصے تک انسانوں کو دوسروں کی تربیت کا ایک واسطہ بنادیتا ہے۔جب تک وہ چاہے وہ واسطہ چلتا ہے۔جوں جوں تربیت کامیاب ہوتی چلی جاتی ہے یہ واسطہ بیچ سے اٹھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جس کی تربیت کی جائے اس کو بھی کبھی کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ اس کا مربی روز آ آ کے اس کو نصیحت کرے۔بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ جس کی تربیت کی جائے وہ اپنے مربی سے بھی بہت آگے نکل جاتا ہے۔پس اس پہلو سے نماز ادا کرنے کی طرف توجہ دیں، اپنے گھروں میں قائم کریں، اپنے گردو پیش قائم کریں اور خصوصیت کے ساتھ داعی الی اللہ نماز پر قائم ہو جائیں اور خصوصیت کے ساتھ ان کو جو سلسلے میں نئے نئے داخل ہوئے ہیں خواہ وہ مسلمانوں میں سے ہوں یا غیر مسلموں میں سے ہوں ان