خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 659
خطبات طاہر جلد 14 659 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء بھی دخل تھا، عرق ریزی شامل ہو اور وہ جانتا ہو کہ مال کس طرح کمایا جاتا ہے۔پھر بھی خرچ کرتا ہے تو وہ جومخفی پہلو بخیلی کے فطرت کے کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے ہیں ، وہ سارے نکل کر باہر آ جاتے ہیں، باہر پھینک دیئے جاتے ہیں۔فرماتے ہیں: ”۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ایمان میں بھی ایک شدت اور صلابت پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔“ ایسے خرچ کرنے والے کے ایمان میں غیر معمولی طاقت آجاتی ہے اور صلابت ، چٹان کی طرح مضبوط ہو جاتے ہیں وہ۔پھر کوئی چیز ان کوٹلا نہیں سکتی ، وہ اٹل ایمان بن جاتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں ”۔۔۔اور وہ دونوں حالتیں مذکورہ بالا جو پہلے اس سے ہوتی ہیں اور ان میں پاکیزگی حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایک چھپی ہوئی پلیدی ان کے اندر رہتی ہے۔۔۔“ مِمَّا تُحِبُّونَ ہی کی تعریف ہے مال جو کمایا گیا ہو یا جس کی ضرورت ہو جو اتنا اہم ہو کہ یوں لگے کہ یہ میرا سرمایہ ہے اگر میں نے خرچ کر دیا تو کچھ بھی نہیں رہے گا اور سرمائے کے نقصان کا خطرہ ہے۔فرمایا جب یہاں انسان ہاتھ ڈال دیتا ہے اللہ کی محبت کے لئے تو تب حقیقت میں اس کے دل کی ہر پلیدی دور کر دی جاتی ہے۔یہ وہ شخص ہے جس کے متعلق خدا کا فتویٰ ہے کہ ہر قسم کی کنجوسی اور بخل سے پاک ہے اور وہ جو عظیم وعدے کئے جاتے ہیں وہ درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں جن کے حق میں کئے جاتے ہیں۔اس سے پہلے کے اخراجات جو ہیں فرماتے ہیں وہ ہوتے تو ہیں مگر ان میں یہ گہرائی نہیں پائی جاتی کہ اندر سے گہرے دبے ہوئے بخل کے گند کو نکال باہر پھینکیں۔پھر فرماتے ہیں:۔۔۔اس میں حکمت یہی ہے کہ لغویات سے منہ پھیرنے میں صرف ترک شر ہے اور شر بھی ایسی جس کی زندگی کی بقاء کے لئے کوئی ضرورت نہیں اور نفس پر اس کے ترک کرنے میں کوئی مشکل نہیں“۔۔۔فرماتے ہیں جو لغویات سے پر ہیز کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھو کہ ہمیشہ بہت اچھے کام ہی کر رہے ہیں۔اپنے نفس کو لغویات سے محروم رکھنا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ زندگی کی بقاء کے لئے