خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 654
خطبات طاہر جلد 14 654 خطبہ جمعہ یکم رستمبر 1995ء برکت عطا کی جاتی ہے۔اور دوسری بات لطف کی یہ ہے کہ وہ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس جیسے، ان کے نقش قدم پر اور بھی پیدا کر۔یہ جو اور پیدا کر“ ہے اس کا تعلق میرے نزدیک جہری قربانی سے ہے اور ظاہری قربانی سے ہے۔یہ قربانیاں جو رات کو کی جاتی ہیں مخفی طور پر کرنے والے کو اجر تو دے جاتی ہیں مگر لوگوں میں تحریص نہیں پیدا کر سکتیں، ان کو پتا نہیں چلتا۔پس دن کے وقت پھر یہ لوگ جب چندوں کا حساب کرتے ہیں، رسیدیں دی جاتی ہیں، ان کے متعلق اعلان کئے جاتے ہیں بتایا جاتا ہے کہ خدا کے فضل سے فلاں جماعت کو، فلاں شخص کو غیر معمولی قربانی کی توفیق ملی تو فرشتوں کی دوسری دعا پوری ہو جاتی ہے۔ان کے نقش قدم پر چلنے والے اور بھی پیدا کر۔چنانچہ بسا اوقات ایک شخص کا خواہ نام نہ بھی لیا گیا ہو، اس کی قربانی کا ذکر کیا گیا ہو، اسے اخفا میں رکھا گیا ہومگر قربانی کی نوعیت بیان کر دی گئی ہو تو بڑی جلدی خدا دنیا میں ایک یا دو یا دس یا زیادہ کو تحریک کرتا ہے کہ ویسی ہی قربانی وہ بھی کریں۔چنانچہ پچھلے جمعہ کے بعد جب میں گیا ہوں تو ایک فیکس آئی ہوئی تھی کہ میں نے یہ سنا تھا کہ اس قسم کے ایک شخص کا آپ نے ذکر کیا ہے میرے دل میں بھی تحریک پیدا ہوئی کہ میں بھی ویسا بنوں تو فرشتوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں میں کثرت پیدا کرتا ہے اور اس کثرت کا تعلق اظہار سے بھی ہے حالانکہ نام کا اظہار نہیں مگر کسی خوبصورت قربانی کا اظہار لا زم ہو جایا کرتا ہے تا کہ لوگ دیکھیں اور ان کے دلوں میں تحریص پیدا ہو۔نہ وہ اظہار دکھاوے کی خاطر ہوتا ہے نہ وہ تحریص دکھاوے کی کسی نیت سے تعلق رکھتی ہے اور وہ جو تیں بناتے ہیں وہ بھی خالصہ اللہ کے لئے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کے لئے یہ فیصلہ کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اسی واسطے علم تعبیر الرؤیا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔۔۔۔یعنی مال ہم تو عام محاورے میں کہتے ہیں اولا د جگر گوشے ہیں انسان کے ، مگر علم التعبیر کی رو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی دیکھے کہ جگر دیا ہے تو مراد مال ہے اور