خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 650
خطبات طاہر جلد 14 650 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء کیونکہ یہاں ایسے ایک مالدار کا دوسرے مالدار سے مقابلہ دکھایا جا رہا ہے۔دنیا کے لحاظ سے دونوں ہی دولت مند ہیں اس لئے رزقِ حسنہ کی بات ہونی چاہئے تھی۔ایک دولت مند دولت مند ہوتے ہوئے بھی فقیر ہو گیا، وہ مالک ہوتے ہوئے مملوک بن گیا آقا ہوتے ہوئے بھی غلام ہو گیا۔دوسرا دولت مند ہے اسے رزق حسن عطا فرمایا ہے۔پھر وہ کیا کرتا ہے سِرًّا وجَهْرًا خرچ کرتا ہے چھپ چھپ کے بھی اور ظاہر ا طور پر بھی۔هَلْ يَسْتَوْنَ کیا وہ ایک جیسے ہو سکتے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ قرآن کریم کا طریق ہے جب بہت ہی شان دار مضمون بیان ہو تو اس کے بعد الحمد للہ بے اختیاراس آیت کا حصہ بن جاتا ہے۔بڑا ہی قابل تعریف ہے وہ خدا جس نے یہ مضمون خوب کھول کر بیان فرمایا ہے۔بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ لیکن حسرت کا مقام ہے کہ اکثر وہ لوگ جانتے ہی نہیں کہ کیا قصے ہیں، دولت کیوں دی جاتی ہے، اس کے استعمال کون سے ہیں جو دائمی فوائد پہنچانے والے ہیں، کون سے ہیں جو عارضی ہیں، کون سے ہیں جو ہلاکت کی طرف لے جانے والے ہیں۔پس اللہ کی تعریف ہو، ہر تعریف اسی کے لئے ہے جو ان باتوں کو خوب کھول کر بیان کرتا ہے جب کہ حال یہ ہے اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو مالی قربانی کرتے ہیں مگر اس قربانی کو بوجھ سمجھ رہے ہوتے ہیں اور وہ قربانی ان کے کسی کام نہیں آتی۔یعنی اب ایسے لوگوں کا ذکر فرمارہا ہے قرآن کریم جو خرچ کی تو فیق تو پاتے ہیں مگر نیتوں کی خرابی کی وجہ سے ان کا خرچ ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔فرمایاؤ مِن الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا اعراب میں سے جو بدوی لوگ ہیں ان میں سے ایسے بھی ہیں وہ خرچ کرتے ہیں مگر اسے چٹی سمجھتے ہیں۔سمجھتے ہیں کیا مصیبت پڑ گئی ہے۔یہ بھی چندہ دو، وہ بھی چندہ دو، وہ بھی چندہ دو اور کئی لوگ پھر بے چارے کئی نیک نیتی سے اور کئی گھبرا کر کہتے ہیں اتنے چندے ہو گئے ہیں ان کو سمیٹ سمٹا کر ایک بنانے کی کوشش کی جائے۔یہ بار بار کبھی یہ چندہ آ گیا، کبھی وہ چندہ آ گیا جس نے مجھے لکھا اس نے تو نیک نیتی سے لکھا مگر ان لوگوں کی آواز بھی مجھ تک پہنچا دی جو بے آواز ہیں۔سمجھتے ہیں کہ ہے تو چھٹی اور مصیبت ، مگر منہ سے کہہ نہیں سکتے۔مگران سے پہلے قرآن یہ آواز پہنچا چکا ہے۔فرمایا ایسے بدوی مزاج لوگ ہیں جب تم ان سے چندے مانگتے ہو، تو ہوتی مصیبت ہی ہے ان کے لئے اور ایسی مصیبت پڑی رہتی ہے بے چاروں کو