خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 649 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 649

خطبات طاہر جلد 14 649 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء ہوا د یکھتے ہیں۔باپ میں تو فیق ہے، مال جمع کر رہا ہے ، جائیدادیں بنا رہا ہے مگر اتنی توفیق نہیں ہے کہ اس کو خود اپنی ہی اولاد کے لئے خرچ کر سکے۔تو یہ وہ عَبْدًا مَّمْلُوكًا ہے جس کا ذکر چل رہا ہے غلام ہے، پیسے ہیں لیکن خود اپنی ہی دولت کا غلام بن کر مملوک بن گیا ہے، مالک نہیں رہا۔تو وہ دولت مند جو مالک ہی نہ ہو اس پر کس کو حسرت ہو سکتی ہے، کس کو اس پر رشک آ سکتا ہے وہ تو قابل رحم ہستی ہے ایک۔دیکھنے میں مالک مگر عملاً مملوک تو مالک کے مقابل پر لفظ مملوكًا کو رکھ کر اس مضمون کو کھول دیا گیا کہ مالی معاملات کی بات ہو رہی ہے یاد رکھنا بعض لوگ مالک ہوتے ہی نہیں۔تم سمجھتے ہو کہ بڑے امیر لوگ ہیں۔ان کی امارت کیا خاک ہے کہ جو اپنوں پر بھی کچھ خرچ نہ کر سکیں، اپنی ضرورت بھی پوری نہ کر سکیں اور ایسے ایسے کنجوسوں کے متعلق لطیفے بھی ہیں مگر واقعہ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ایک ایسے کنجوس کا کسی اور ایسے کنجوس کے ساتھ اپنی کنجوسی کے متعلق مقابلہ شروع ہوا۔وہ اس کنجوسی کو اپنی عقل اور فراست کا نشان سمجھتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ تاجر ہوتو ایسا ہو۔تو اس نے کہا تم کیسے خرچ کرتے ہو۔اس نے کہا میں تو بہت ہی احتیاط کرتا ہوں ، روٹی چپڑنے کی تو کبھی توفیق نہیں ملی میں تھوڑا سا گھی ذرا سالگا کے ایک لقمے کو اس کو ساری روٹی پر پھیر تار ہتا ہوں یہاں تک کہ ساری روٹی پر مجھے خیال ہو کہ گھی لگ گیا ہے پھر میں مزے لے لے کے وہ کھا تا ہوں۔تو دوسرے نے کہا تم بڑے خراج ہو، ایسا نہ کیا کرو۔میں نے تو گھی رکھا ہوا ہے روٹی دکھاتا ہوں اس کو اور کھا لیتا ہوں۔یہ ممْلُوا ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے۔عبد بھی ہیں، غلام ہیں نفس کے اور مملوک بھی ہیں اپنی ملکیت کے خود مملوكًا بن چکے ہیں۔جس کے مالک تھے وہ ان کا مالک بن گیا، یہ ہے مضمون جو مملوک کا نفظ آپ کو دکھا رہا ہے۔لَّا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ جن کے پاس ہے ہی کچھ نہیں خرچ کرنے کو، ان کو طاقت کیا ہے کسی چیز کی۔وہ مال جو طاقت بنے وہ ہے جو رعب داب کا یاد نیاوی فوائد کا موجب بنا کرتا ہے۔ایسے لوگ نہ اس مال سے سیاست خرید سکتے ہیں، نہ دنیا کے مراتب خرید سکتے ہیں، نہ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، نہ لوگوں کے فائدے کے سامان کر سکتے ہیں۔تو فرمایا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ ایسا مملوک جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ رہا ہو۔وَمَنْ زَزَقْنَهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا اور مثال دیکھو کہ اسے ہم نے رزقِ حسنہ عطا فرمایا ہے۔یہاں وہ مضمون نہیں ہے کہ کم ہونے کے باوجود خرچ کرتا ہے۔یہاں ایک اور مضمون نکالا گیا ہے