خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 644
خطبات طاہر جلد 14 644 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء الصلوۃ نماز کو قائم کریں وَ يُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ اور خرچ کریں اس سے جو ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے۔سر او عَلَانِيَةً چھپ چھپ کر بھی اور کھلم کھلا بھی۔یہاں بھی دیکھ لیں مسلسل چھپانے کے مضمون کو پہلے رکھا ہے خرچ میں اور ظاہر کے مضمون کو بعد میں رکھا ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر محبت کے خرچ ہیں تو دنیا کی خاطر ہو ہی نہیں سکتے اور ثبوت اس بات کا کہ اللہ کی خاطر ہے یہ ہے کہ صرف اللہ کی نظر میں آئے چیز کسی اور کی نظر میں نہ آئے اس رنگ میں خرچ کرو لیکن اگر تم اس رنگ میں خرچ کرتے ہو تو پھر اس بات کے بھی مجاز ہو کہ کھلم کھلے تحائف بھی پیش کرو کیونکہ بسا اوقات دنیا کی تحریص کی خاطر بعض خرچ کھلے کھلے کرنے پڑتے ہیں۔اس لئے بعض دفعہ اعلانیہ چندوں کی تحریک کی جاتی ہے اور اعلانیہ چندہ دینے والوں کے نام لئے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی طریق اختیار فرمایا لیکن جو مخفی پہلو ہے وہ حفاظت کرتا ہے اعلانیہ کی۔جو چھپی ہوئی نیکی ہے وہ ظاہر نیکی کی حفاظت کرتی ہے اور ضامن بن جاتی ہے اس بات پر کہ خدا کو یہ قبول ہوگی کیونکہ اس کے اس بندے نے دنیا کی نظر سے غافل محض چھپ کر کبھی راتوں کے اندھیروں میں کبھی مخفی طریق پر رضائے باری تعالیٰ کی خاطر خرچ کئے ہوئے ہیں۔پس یہ عبادی کا جب خطاب فرمایا تو اس کی طرف توجہ دلا دی کہ دیکھو سر کے پہلو کو بھلانا نہیں کھلی قربانیاں بھی پیش کرنا مگر ایسی مخفی قربانیاں بھی ضرور پیش کرنا کہ اس سے یقین ہو جائے کہ تم محض محبت کی خاطر کر رہے ہو اور خدا کی محبت کی خاطر کر رہے ہو، پھر اس کا جواب بھی اسی طرح ملے گا۔اور یہ جو جواب ہے میں ضمناً آپ کو بتا دوں اس کا ایک بہت گہرا تعلق انسان کے ہاتھ سے رونما ہونے والے اعجازوں سے ہے۔بسا اوقات ایک انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ خاص اعجاز کا سلوک فرما تا چلا جاتا ہے اور دنیا نہیں کجھتی کہ کیوں ایسا ہو رہا ہے۔کوئی اس کی نیکی ایسی خاص دکھائی نہیں دیتی، نمازیں بھی اسی طرح پڑھتا ہے جیسے دوسرے لوگ پڑھتے ہیں، قربانیاں بھی اسی طرح دیتا ہے جیسے دوسرے لوگ دیتے ہیں مگر ایک مخفی ہاتھ اعجاز کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔وہ سویا ہوا بھی ہو تو اس کے لئے اس کا خدا جاگتا ہے اور اس کی تائید فرماتا ہے۔اس کا راز اس بات میں ہے کہ مخفی طور پر اللہ سے محبت کے ایسے اظہار کرتا ہے جس میں خدا کی نظر کے سوا اور کوئی نہیں دیکھتی۔تو اللہ بھی مخفی پیار کرتا