خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 632
خطبات طاہر جلد 14 632 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء گئی۔اصل میں جن کے دل اللہ کی محبت میں سرد پڑ چکے ہوتے ہیں ان کے اموال میں Energy نہیں ہوتی ، ان کی ساری قربانیاں طاقت سے عاری ہو جاتی ہیں اور دنیا میں جو آپ کو قربانیاں دکھائی دیتی ہیں یہ بے معنی ہیں، ان کے کسی کام نہیں آ سکتیں کیونکہ اصل فیصلہ یہ ہوگا کہ اللہ کی محبت کی گرمی سے کچھ خرچ کیا گیا ہے یا اس کے فقدان کے نتیجے میں ایک مرے ہوئے ، ٹھنڈے دل نے خرچ کیا ہے اور جو مرا ہوا ٹھنڈا دل خرچ کرے گا اللہ نتیجہ وہی نکالے گا۔خواہ دنیا پر آپ کتنی ہی گرم جوشی سے خرچ کریں لیکن ٹھنڈی ہوا جو آپ کے دل کی خدا سے سرد مہری کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے وہ بالآخر اس کو ہلاک کر دے گی۔تو خدا تعالیٰ نے مثالیں دی ہیں ان میں بھی گہری حکمتیں ہیں۔یہاں محبت کی گرمی یا محبت کے فقدان کی سردی مراد ہے اور جن کے دل خدا کی محبت سے عاری ہوں ان کے دل خدا پر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور وہی سردی ہے ان کے دلوں کی جو ان کی محنتوں کو ہلاک کر دیا کرتی ہے۔وَمَا ظَلَمَهُمُ اللهُ وَلكِنْ اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ اس کے نتیجے کی سمجھ آجاتی ہے۔اگر آپ پہلی آیت کو سمجھ لیں۔اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے تو ان پر ظلم نہیں کیا۔اگر وہ مضمون نہ سمجھیں جو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے تو پھر یہ نتیجہ مجیب سا لگتا ہے۔ایک طرف اللہ کہتا ہے چلاتا تو خدا ہی ہے ہوا اور ایک زمیندار کے سارا سال کی محنت بھی برباد ہو جاتی ہے اور پھر بھی اللہ کہتا ہے کہ ہم نے ظلم نہیں کیا انہوں نے خود ظلم کیا۔انہوں نے خود ظلم اس لئے کیا کہ اپنی قربانیوں کی ہلاکت کا سامان پہلے ہی دل میں سمیٹ رکھا تھا۔ہیولا برق خرمن کا ہے خون گر دہقاں کا وہ خون گرم غریب کا جوامیر چوس جائے، غالب کہتا ہے کہ برق جو گرتی ہے خرمن پر یہ وہی غریب کا چوسا ہوا خون ہے جو برق بن کر برستا ہے۔اور یہاں تمہاری اللہ کی محبت سے سرد مہری ہے جو یخ بستہ ہوا بن کر چلے گی تمہارے اعمال پر اور ان سب کو بے نتیجہ اور بے حقیقت کر کے دکھا دے گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا پہ جو بھی آپ خرچ کریں اس کا یہی نتیجہ نکلے گا۔آنحضرت ﷺ نے جو ہمیں مالی نظام کے باریک پہلو سمجھائے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ جو خرچ بظاہر ہم دنیا پہ بھی کرتے ہیں ان میں بھی اللہ کی محبت کی گرمی پیدا کی جاسکتی ہے اور اگر کر دی جائے تو