خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 612 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 612

خطبات طاہر جلد 14 612 خطبہ جمعہ 18 اگست 1995ء ہیں تو اللہ ہی سے کماتے ہیں۔فضل بھی اسی سے چاہتے ہیں یعنی اموال، دنیا کے اموال کے لئے رحمت کے مقابل پر فضل کی اصطلاح زیادہ استعمال ہوئی ہے قرآن کریم میں ، يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا اور فضل کماتے ہیں تو رضوان بھی کما جاتے ہیں، ایک یہ بھی معنی ہے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ فضل کی الگ دعا کر رہے ہیں رضوان کی الگ۔وہ جن کا مال خدا کی راہ میں خرچ ہوتا ہے ان کا فضل کمانا رضوان کمانا ہی بن جاتا ہے۔جتنا بھی خدا ان کو زیادہ دیتا ہے گویا رضوان زیادہ دے رہا ہے کیونکہ ان کے مال کا ہر حصہ اللہ کی رضا کی خاطر خرچ ہورہا ہوتا ہے۔تو کنجوس بے چارے کی تو زندگی ہی کوئی نہیں۔اس کا ایک اور نقشہ خدا کی راہ میں سخی یا دنیا میں بھی جو سنی ہو اور کنجوس اس کے مقابل پر ہو اس کا بھی آنحضرت ﷺ نے نقشہ کھینچا ہے۔میں وہ بتاتا ہوں آپ کو، ابھی آگے وہ آئے گا مضمون جو اسی مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔سر دست میں آپ کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت سناتا ہوں جو بخاری کتاب الزکوۃ سے لی گئی ہے۔عرض کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔اگر رشک کرنا ہے تو دو شخصوں پر کرو۔ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا۔دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ، دانائی اور علم و حکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، ان کی تربیت کرتا ہے۔وہ جو پہلا مضمون میں نے قرآن کی آیت کے حوالے سے بیان کیا تھا اس کی تصدیق یہ حدیث کر رہی ہے کہ وہ لوگ جو دنیا کا خرچ نہیں پاتے اپنے پاس خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے ، ان کی توجہ پھر دانائی کی باتیں پھیلانا، برائیوں کو دور کر کے نیکیاں پیدا کرنا ان امور کی طرف بٹ جاتی ہے۔جس طرح بعض دفعہ لوگ بینائی سے محروم ہوں تو حافظہ تیز ہو جاتا ہے، کچھ نہ کچھ انسان رد عمل ضرور دکھاتا ہے۔تو ان لوگوں کا نقشہ آنحضرت مو نے بھی اسی رنگ میں بیان فرمایا ہے کہ خدا کے بندے دو قسم کے ہیں جن کے پاس کچھ نہ ہو وہ دانائی خرچ کریں گے پھر۔جو بھی اللہ نے حکمت عطا کی ہے اس کو راہ خدا میں قربان کرتے پھریں گے۔تو یہ دونوں بندے ہیں جن پر رشک کرنا چاہئے۔مِمَّارَزَقْنَهُمْ کی تفسیر خود بخود ظاہر ہوگئی اس سے کہ رَزَقْنُهُمْ کے دو پہلو ہیں۔ایک دنیاوی فوائد ، نظر آنے والے فوائد ، ایک وہ فوائد جو صلاحیتوں کے طور پر اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔