خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 606
خطبات طاہر جلد 14 606 خطبه جمعه 18 اگست 1995ء ربوہ میں جو میرا فارم تھا وہاں بعض ایسے درخت میں نے لگائے جو ڈنڈے کاٹ کے تو پیوست کئے جاتے ہیں وہ براہ راست جڑ پکڑ جاتے ہیں اور پھر اس سے درخت بنتا ہے۔ اب معمولی ڈنڈے تھے۔ وہ ایک دن ہم سارے محنت کر کے لگا کے گئے ۔ دوسرے دن دیکھا تو کوئی اٹھا کے سارے ڈنڈے نکال کر لے گیا۔ اب وہ غریب آدمی بے چارے ان کے لئے ایندھن کا کام دے گئے ۔ لوگوں کے سائے کی بجائے ان کے جلنے کے کام آگئے ۔ مگر غربت کی مجبوریاں ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو ساتھ باندھ دیا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے اوپر طبعی تقاضے ہیں کہ وہ دور بعض خوبیاں چھوڑ کر برائیوں میں منتقل ہو جا ں ہو جائیں۔ وہ اس کا برعکس رخ رکھتے ہیں۔ وہ برائیاں کرتے رہتے ہیں اور حسن پیدا کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ان کی غربت ان کو حسین تر بنا دیتی ہے۔ بجائے اس کے کہ ان کے اندر عیوب پیدا کر دے اور یہی فیض ہے جو سوسائٹی میں بھی پھر جاری کرتے ہیں۔ غریب ہوتے ہوئے کلمہ خیر کہتے ہیں ، لوگوں کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور بسا اوقات ایسے لوگوں کی نصیحتیں جو اپنی ذات میں کوئی بھی دلی خواہش نہ رکھتے ہوں نسبتا امیر اور متمول لوگوں کے بہت زیادہ گہرا اثر کرتی ہیں۔ کئی ایسے درویش صفت آپ نے انسان دیکھے ہوں گے چلتے پھرتے لوگوں کی بھلائی میں باتیں کرتے رہتے ہیں۔ تو ان کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ہر نیکی، ہر انفاق کی جزالا زما دنیا میں نہیں ملا کرتی۔ بعض لوگ صبر سے آزمائے جاتے ہیں اور صبر کی صفت کا پہلے ذکر فرما دیا، بتانے کے لئے کہ ان کا لمبا صبر ہے۔ یہ عمر بھر صبر کریں گے اور صبر پر ثابت قدم رہیں گے۔ ان کی جزا الدَّارِ ہے۔ تمام تمنائیں، تمام امنگیں جو تھیں یا جن تک پہنچ بھی نہیں تھی وہ ھی اللہ تعالی ان کے مرنے کے بعد پوری فرمادے گا اور ہمیشہ کے لئے ان کو تسکین کی اور امن کی زندگی عطا فرمائے گا۔ اب یہ فائدے ہیں ۔ آپ دیکھیں دنیا میں جماعت احمدیہ کے سوا کوئی ہے جماعت جس کا اس مضمون سے تعلق ہو۔ کسی کا بھی تعلق نہیں۔ لوگوں کا لوگوں کے پیسے چھینے سے تعلق ہے۔ تمام سیاسی نظام، تمام اقتصادی نظام، تمام معاشرے اس وقت ان سوچوں پر جاری ہیں کہ کسی طرح دوسروں کے پیسے ہتھیائے جائیں۔ عدالتیں بھی اسی غرض سے قائم ہیں۔ پولیس بھی اسی غرض سے بنائی گئی ہے۔ فوجیں بھی آخر یہی کام کرتی ہیں، پیسے ہتھیانا لوگوں کے ۔ لوگوں کے لئے خرچ کرنا، اپنے حقوق چھوڑنا اور غیروں پر جو خرچ کرنا جبکہ آپ بھی نہ ہو۔ بہت تنگی ترشی میں