خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 594 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 594

خطبات طاہر جلد 14 594 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء ذکر کر کے فرماتا ہے پھر وہی بات وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرِ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِیمٌ تم جو کچھ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرو گے اس کی نظر میں ہو گا۔اب یہاں نظر کی بات کی ہے پہلے نہیں کی تھی۔پہلے بھی یہی مضمون دو دفعہ ذکر ہو چکا ہے لیکن وہاں خدا کی نظر کی بات نہیں کی۔بات یہ ہے کہ جیسے لوگوں کا ذکر ہے ان لوگوں کی جو خدمت کرے گا وہ بہت ہی جاہل ہوگا اگر دکھا کر کرے۔جو خدا کی خاطر چھپ گئے اور انہوں نے اپنی غربت کو دنیا سے چھپا لیا ان کو اگر کوئی اعلانیہ دے تو بڑا ہی جاہل ہوگا بلکہ اس میں ایک کمینگی کی علامت پائی جاتی ہے۔وہ بتا رہا ہے کہ گویا نعوذ باللہ ہم تمہارے محسن ہیں اور جو انہوں نے چھپایا ہوا تھا اپنی غربت کو وہ دنیا کے سامنے ظاہر کرنے والا ہوگا۔پس جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسے لوگوں کی خدمت جو صاحب عرفان صحابہ تھے وہ یا تو رات کو چھپ کے دے جایا کرتے تھے یا پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے۔جانتے تھے کہ وہاں گیا تو یہاں آیا۔پس اس پہلو سے خدا کے علیم ہونے کا ذکر بہت ہی پیارا اور موزوں ہے کہ اللہ سے تو چھپتا ہے ہی نہیں۔محمد رسول اللہ ﷺے پہچان لیتے ہیں کہ خدا کی خاطر کون غریب بنے بیٹھے ہیں تو اللہ کو نہیں پتا لگے گا کہ اس کی خاطر کون چھپ چھپ کے دیتا ہے۔فرمایا جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے جان لو کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا پورا علم ہے اس سے چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔اب پھر مضارع کا صیغہ واپس آ گیا ہے۔پہلے ساری مشروط باتیں تھیں اگر تم ایسا کرو تو یہ ہوگا، یوں کرو گے تو یوں ہوگا۔الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ (البقره: 275 ) کہ وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں بِاليْلِ وَالنَّهَارِ یہ اب عام مضمون ہے۔جو پہلا مضمون تھا وہ خدا کے ان خاص بندوں کا ذکر تھا جو محض رضاء باری تعالیٰ کی خاطر مخفی رکھ کر خرچ کرتے ہیں اور مخفی رہتے ہوئے اپنے حقوق سے خود محروم ہوئے بیٹھے ہیں۔اب ایک عام مضمون چل پڑا ہے۔محمد رسول اللہ علی کے غلاموں میں کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہو چکے ہیں الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ جو اپنے اموال کو خرچ کرتے ہیں راتوں کو بھی اور دن کو بھی ، چھپا کے بھی اور ظاہر کرتے ہوئے بھی فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ان کے لئے ان کے رب کا اجر ان پر ہے۔یہاں ظاہر کرنے کے باوجود اجر کیوں دیا گیا ہے اگر مخفی رکھنے کو ایسی اہمیت دی گئی تھی۔