خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 584
خطبات طاہر جلد 14 584 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء فرماتا ہے جو بعض دفعہ لاکھوں کروڑوں تک پہنچ جاتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ بزنس ہے، یہ بزنس میں واپس جا رہا ہے۔تو جھوٹ بھی نہیں بولا اور نقصان بھی کر لیا اپنا یعنی ایسی سچی بات کہی جس سے اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی برکتوں سے محروم رہ گئے۔بعض ایسے مخلصین ہیں ان کے لئے بھی وقتیں ہیں۔میں یہ نہیں کہ سکتا کہ قانونی طور پر انکم ٹیکس کے مسائل کو حل کرنے میں ایسی سہولتیں موجود ہیں کہ ہر انسان کامل انصاف پر رہتے ہوئے انکم ٹیکس کے فارم بھر سکتا ہے۔ملکی سوچ اگر ٹیڑھی ہو چکی ہو اور توقع یہ ہو کہ جرائم کر رہے ہیں سارے، ہر ایک چوری کر رہا ہے تو پھر انکم ٹیکس والے، جب آپ حامی بھرتے ہیں تو اس پر مزید اضافہ کرتے ہیں اور اس کے خلاف اپیل بھی نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ دستور ہی میں ہے۔تو احمدیوں کے لئے بڑے مصائب ہیں، کس طرح وہ حل کرتے ہیں۔میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔نہ میں ان سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ معین کوائف بیان کر کے مجھ سے پوچھیں کیونکہ یہ بھی اسی دائرے سے تعلق رکھنے والی بات ہے لَا تَسْتَلُواعَنْ أَشْيَاءَ اِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ (المائدہ: 102) ایسی باتوں کے متعلق معین سوال نہ کیا کرو کہ اگر تمہیں جواب دیئے جائیں تو پھر تمہیں تکلیف ہو، تمہارے لئے تکلیف کا موجب بن جائیں۔تو بد دیانتی کی اجازت تو اسلام دیتا نہیں مگر حکمت کے ساتھ اپنی بقاء کی کوشش کرنا یہ ہر مسلمان کا فرض ہے۔پس ان کے درمیان تقویٰ سے کوئی ایسی راہ تراشیں جس سے آپ کا قدم حرام کی طرف نہ بڑھنے لگے بلکہ حلال ہی کی طرف مائل رہے۔پھر اس کے بعد احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر آپ جماعت کو چندہ دینا چاہیں تو اس کے سو (100) رستے نکل سکتے ہیں۔بعض وہاں ہمارے مخلصین ہیں جو انکم ٹیکس کا حساب وہاں دیتے ہیں، چندے کا حساب یہاں آکے دیتے ہیں اور ان کو اس کا کوئی خطرہ نہیں۔مجھے بتا دیتے ہیں کہ یہ میری مشکل تھی تو آج یہ پچاس لاکھ ہے، آج یہ فلاں اتنا روپیہ ہے، ایک کروڑ روپیہ تک بھی دیا گیا ہے۔کہتے ہیں یہ آپ لے لیں۔یہاں سے پاکستان بھجوائیں یہاں رکھیں، جماعت کا روپیہ ہے جہاں چاہیں خرچ کریں۔لیکن ہمارا ضمیر اب ہمیں کچوکے نہیں لگائے گا، ہم نے خدا کا حق جیسا کہ اس نے چاہا تھا پورا کر دیا۔تو اگر نیت پاک ہو اور نیک ہو تو انسان دینے کے خود ہی رستے تلاش کر لیا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے میں پاکستان کی جماعت سے بھی توقع رکھتا ہوں کہ وہ یہ نیت رکھیں کہ اللہ