خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 583
خطبات طاہر جلد 14 583 خطبہ جمعہ 11 اگست 1995ء پلٹ گئی۔ایسی کایا پلٹی کہ اپنے پہلوں کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔تعداد میں ان سے بہت کم لیکن ملکی اقتصادی حالات سے استفادہ کرتے ہوئے تھوڑی تعداد زیادہ کمانے لگی مگر ایسا کمانے لگی کہ دل بھی ساتھ بڑھے اور دل چھوٹے نہیں ہوئے۔پس اس پہلو سے جرمنی کی جماعت کو جو اعزاز اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس کا ذکر ضروری ہے تا کہ اہل پاکستان کو پھر اور بھی جوش آئے۔ابھی کھانے پر صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے بے چینی کا اظہار کیا، پہلے بھی کیا تھا اور کہا کہ پھر آپ کیا دعا دیں، ان کو تو نہیں صرف دعا میں یاد رکھیں گے۔میں نے کہا نہیں میں آپ کو بھی دعا میں یاد رکھوں گا مگر مقابلہ تو میں نے کرانا ہی کرانا ہے۔آپ کو بھی کہوں گا آگے بڑھو اور ان کو بھی کہوں گا آگے بڑھیں۔اس وقت وہ آپ کو اتنا پیچھے چھوڑ گئے ہیں کہ بظاہر اب آپ کا آگے جانا مشکل نظر آ رہا ہے۔اس سے زیادہ میں موازنے کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا اور میں توقع رکھتا ہوں کہ جماعت پاکستان ان پہلوؤں سے جائزہ لے گی جو میں نے بیان کئے ہیں کہ بہت سے ایسے نو مبائعین ہیں جن کو استطاعت ہے، وہ چندے میں شامل ہوئے ہیں یا نہیں۔بہت سے ایسے مخلصین ہیں جو دستور کے مطابق چندہ دے رہے ہیں لیکن کبھی جائزہ نہیں لیا کہ جتنی خدا نے ان کو مالی فراخی عطا کی ہے اس کے مطابق چندہ بھی بڑھا ہے کہ نہیں۔بہت سے نئے روزگار پانے والے ہیں۔بہت سی جماعتوں میں ناد ہند بھی چلے آرہے ہیں اور دیہات میں اکثر ایسا دکھائی دیتا ہے۔پھر بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے شرح سے کم دینے کے بہانے جوڑ رکھے ہیں اور اپنے خیال میں وہ سمجھتے ہیں ٹھیک ہے۔تاجر ہیں، وہ کہتے ہیں اگر ہم نے اس تجارت پر چندہ دیا تو انکم ٹیکس ہم اور حساب سے دے رہے ہیں چندہ اور حساب سے دیا تو پکڑے جائیں گے۔پھر وہ سوچتے ہیں کہ ہم نے جو عذر تراش رکھے ہیں انکم ٹیکس میں اس میں تو قانون ہمیں کچھ سہولتیں دیتا ہے اور جماعت کے سامنے جب رکھیں گے تو پھر وہ سہولتیں تو اس طرح نہیں مل سکتیں۔اس لئے کھل کر بات کرنی پڑے گی اس لئے سچی بات کرنی ہے اگر تو ایسی سچی بات کیوں نہ کریں جس میں ہمارا کم سے کم نقصان ہو۔یعنی مرادان کی یہ ہوتی ہے کہ ایسی سچی بات کیوں نہ کریں جس میں کم سے کم فائدہ ہو۔چنانچہ سچی بات یہ کرتے ہیں کہ اپنے گزارے کے لئے ، اپنی تجارتوں میں سے جو روپیہ نکالتے ہیں کہتے ہیں یہ ہے ہماری آمد اور جو اللہ تعالیٰ وسیع منافع عطا