خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 577
خطبات طاہر جلد 14 577 خطبہ جمعہ 4 اگست 1995ء درخت کے اوپر حملہ ہوتا ہے اور درخت جو نمونے دکھاتا ہے کیا شاخ کو زیب دیتا ہے کہ وہ نمونے نہ دکھائے۔تم دیکھو کہ یہ کب تک گالیاں دیں گے۔آخر یہی تھک کر رہ جائیں گئے۔دیتے چلے جائیں، دیتے چلے جائیں، آخر تھک کر رہ جائیں گے۔آج ہی مجھے کوئی کہ رہا تھا کہ اس عالمی جلسے کے بعد مولویوں کے بیان آرہے ہیں ان میں کچھ تھکن کے آثار دیکھ رہا ہوں میں۔بہت ہی پیاری بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہی لکھ رہے ہیں ، یہی پیشگوئی فرما ر ہے ہیں کہ تم دیکھو گے کہ آخر کہاں تک جائیں گے یہ۔آخر یہیں تھک کر رہ جائیں گے۔ان کی گالیاں ، ان کی شرارتیں اور منصوبے مجھے ہر گز تھکا نہیں سکتے پس ہم اس کے غلام ہیں جس کے خمیر میں ، جس کی مٹی میں ناکامی کا خمیر نہیں ، جسے کوئی چیز تھ کا نہیں سکتی۔پس آپ بھی کامل وفاداری کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدم پر قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور کسی آزمائش، اور کسی دکھ، کسی تکلیف کے مقابل پر تھکنا نہیں اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو بے شک میں ان کی گالیوں سے ڈر جاتا لیکن میں یقیناً جانتا ہوں کہ مجھے خدا نے مامور کیا ہے پھر میں ایسی خفیف باتوں کی کیا پرواہ کروں۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔تم خود غور کرو کہ ان کی گالیوں نے کس کو نقصان پہنچایا ہے؟ ان کو یا مجھے؟ ان کی جماعت گھٹی ہے اور میری بڑھی ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 158-156) اب دیکھیں یوں لگتا ہے جیسے اس جلسے کی کامیابیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تحریر کا براہ راست ایک تعلق ہے بعینہ اسی غرض سے بنائی گئی ہو اور جس طرح اب دشمن نے شور مچا دیا ہے گالیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں اس کے مقابل پر ہمیں نصیحت اور پھر تھکن کے آثار جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سو سال پہلے دیکھے تھے وہ آج ہمیں بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ کیا نقصان ہوا ہے؟ میری جماعت بڑھی ہے اور بڑھتی رہے گی۔ان لوگوں نے کم ہونا ہی ہے اور کم ہوتے رہیں گے۔اگر یہ گالیاں کوئی روک پیدا کر سکتی ہیں تو دولاکھ سے زیادہ جماعت کس طرح پیدا ہو گئی۔