خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 553
خطبات طاہر جلد 14 553 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی اور آپ کے صحابہ کے حالات پر اطلاق پا تا ہو اور اس سے تضاد نہ رکھتا ہو۔پس آپ بھی ان معنوں میں صبر اختیار کریں اور تقویٰ اختیار کریں جو دشمن میں گھرے ہوئے ہیں۔خدا کا ہر فضل ان کی دشمنی کو بڑھا رہا ہے اور ہر تکلیف جو آپ کو پہنچتی ہے یا ہر برائی جو آپ اپنے اندر داخل ہونے دیتے ہیں وہ ان کی خوشیوں کا موجب بنتی ہے۔پس دعا اور استغفار سے کام لیتے ہوئے اگر آپ صبر اور تقوی کی راہ اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں یوں معلوم ہو گا جیسے تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا اور اللہ تعالیٰ دشمن کو ہمیشہ اپنے گھیرے میں رکھے گا اور اس کا شراس گھیرے سے اچھل کر باہر آ کر تمہیں کوئی حقیقی اور گہرا گزند نہیں پہنچا سکتا، گہر انقصان نہیں پہنچا سکتا۔پھر فرمایا اگر مقابلے ہوں تو کیا کرنا ہے۔اگر بعض دفعہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ جوابی کارروائی کر بیٹھو کیونکہ تم سے صبر نہ ہو تو اس صورت میں کیا نصیحت ہے فرمایا وَ اِنْ عَاقَبتُهُ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِه الخل): ۱۲۷) اگر تم ان کو سزا دو فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْ قِبْتُمْ بِم تو اتنی ہی سزا دو جتنا تمہیں نقصان پہنچایا گیا ہے اور ہرگز اعتدال سے تجاوز نہیں کرنا لیکن ہم پھر تمہیں توجہ دلاتے ہیں وَ لَبِنُ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصُّبِرِينَ انحل: ۱۲۷) اگر تم صبر سے کام لو تو صبر سے کام لینا تو صبر سے کام لینے والوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے۔پس جب بعض اوقات بعض نوجوان پاکستان کے حالات میں ایک لمبے عرصے تک یک طرفہ تکلیفیں برداشت کرتے رہتے ہیں تو اچانک بعض دفعہ ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ جوابی کارروائی شروع کر دیتے ہیں۔مجھے تو اکثر اطلاع اس وقت ملتی ہے جب معاملہ ہو چکا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پھر خصوصیت سے یہ دعا بھی کرنی پڑتی ہے کہ ان کی ایک غیر حکیمانہ حرکت کے نتیجے میں، صبر سے عاری حرکت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ دوسرے معصوم احمدیوں کو غیروں کے شر سے بچائے رکھے کیونکہ صبر کا دامن چھوڑنے کا ایک یہ بھی نقصان ہے کہ جس شخص نے اپنے دل کا غصہ نکال لیا اسے تو بظاہر ٹھنڈ پڑ گئی لیکن وہ معصوم جو بالکل نہتے اور بے بس پڑے ہوئے ہیں اور ہر طرف دشمن کے گھیرے میں ہیں۔بعض دفعہ اس شخص کا بدلہ جو اپنے دل کے جوش کو نکال لیتا ہے ان معصوموں سے لیا جاتا ہے جن کا ایک ذرہ بھی اس میں قصور نہیں ہوتا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھوصبر سے کام لینا، صبر بہتر ہے بہر حال لیکن اگر کبھی کوئی شخص