خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 542
خطبات طاہر جلد 14 542 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا الله كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ یہاں بظاہر تو قتال کی بات ہو رہی ہے۔مگر قتال جہاد کا ایک حصہ ہے، ایک نوع ہے اور اس آیت کریمہ میں جو طرز بیان اختیار فرمائی گئی ہے وہ جہاد کی ہر قسم پر حاوی دکھائی دیتی ہے۔فرمایا جب تمہارا کسی دشمن ٹولی سے آمنا سامنا ہو، مڈ بھیڑ ہو جائے تو ثبات قدم دکھانا۔وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا اور ثبات حاصل کرنے کا راز اس بات میں ہے کہ اللہ کا کثرت سے ذکر کرتے رہو۔لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تاکہ تم کامیاب ہو۔وَاَطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔وَلَا تَنَازَعُوا اور آپس میں جھگڑے نہ کرو۔فَتَفْشَلُو اور نہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور بزدلی دکھاؤ گے۔وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ اور جو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے وہ ہوا ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔وَاصْبِرُ وا پس علاج یہی ہے کہ صبر سے کام لو اِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ يقينا اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔یہاں دعوت الی اللہ کا جہاں تک تعلق ہے اس سلسلے میں بھی دو باتیں میں خاص طور پر ان آیات کے حوالے سے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ ثبات قدم کا راز ذکر الہی میں ہے اور بسا اوقات بہت سخت دشمن جماعتیں مقابلے پر نکلتی ہیں بڑے بڑے بد گو علماء با قاعدہ منصوبے بنا کر اپنے ٹولے ساتھ لے کر سامنے آتے ہیں اور بدنیتوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔وہ موقع ہے جبکہ بظاہر تلوار کا جہاد نہیں بھی ہے تب بھی قدم اکھڑنے کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے۔فرمایا، اس وقت اگر تم نے جرات حاصل کرنی ہے دل کا ثبات حاصل کرنا ہے، یہاں قدموں سے زیادہ دل کے ثبات کی بات ہے وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تو کثرت سے ذکر الہی کرتے رہنا اور ایسا کرو گے تو تم ضرور کامیاب ہو جاؤ گے لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تا کہ اس کے نتیجے میں تم کامیاب ہو جاؤ۔وَاَطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ دوسرا ثبات کا راز اور جمیعت اور طاقت کا راز یہ بیان فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دامن نہیں چھوڑنا۔وَلَا تَنَازَعُوا اور آپس میں اختلاف نہیں کرنا، آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑنا نہیں۔اگر تم ایک دوسرے سے جھگڑو گے اور اختلاف کرو گے اور تمہاری جماعتیں پھٹ جائیں گی فَتَفْشَلُوا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ دشمن کے مقابل پر بھی تم ضرور بزدلی