خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 541
خطبات طاہر جلد 14 541 خطبہ جمعہ 28 جولائی 1995ء دنیا کا سب سے بڑا صبر کرنے والا انسان محمد الله سے بڑا داعی الی اللہ بنایا گیا ، دعوت الی اللہ کیلئے صابر ہونا ضروری ہے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 28 / جولائی 1995ء بمقام اسلام آباد۔ٹلفور ڈلندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَاَطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوْاوَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ (الانفال: 47،46) پھر فرمایا:۔اسماء باری تعالیٰ کے ذکر پر مشتمل جو خطبات کا سلسلہ جاری ہے اس تعلق میں گزشتہ خطبے میں میں نے صبر سے متعلق جماعت کو تلقین کی تھی ، خصوصاً اس لئے کہ دعوت الی اللہ کے تعلق میں جیسا گہرا رشتہ قرآن کریم نے صبر کے ساتھ باندھا ہے اس کی کوئی اور مثال دکھائی نہیں دیتی۔دنیا کی کسی کتاب میں دعوت الی اللہ کے مضمون کو صبر سے اس مضبوطی اور قطعیت کے ساتھ نہیں باندھا گیا جیسا کہ قرآن کریم نے باندھا ہے اور اس کے ہر پہلو کو بیان فرمایا ہے۔اس تعلق میں صبر کی جتنی قسمیں ہیں۔جس جس قسم کے صبر کی ضرورت پیش آسکتی ہے ان سب کا بیان ہے۔یہ دو آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں سورۃ انفال کی چھیالیسویں اور سنتالیسویں آیات ہیں ان میں بھی یہی مضمون جاری ہے۔