خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 538 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 538

خطبات طاہر جلد 14 538 خطبہ جمعہ 21 جولائی 1995ء سکتے ہیں۔عقل سے کام لینا چاہئیے، حکمت کی باتیں حکمت سے عمل میں لانی چاہئیں۔مراد یہ ہے کہ جو عام مہمان ہیں جن کے ساتھ پرانے رابطے نہیں ہیں لمبے قیام کے ، ان کا فرض ہے کہ تین دن سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں حق ادا ہو گیا اجازت چاہیں اور اگر پھر وہ خوشی سے رو کے یا آپ اجازت چاہتے ہیں اور آپ جانتے ہیں اس کا چہرہ دیکھ کر کہ کوئی انقباض نہیں ہے تو پھر بے شک کچھ دن اور ٹھہر جائیں مگر ایسے مہمان نہ بنیں کہ میزبان آئندہ ہمیشہ کے لئے مہمانی سے ہی توبہ کرلے۔ایسے مہمان نہ بنیں جیسا ایک عرب بدو کے تجربے میں آیا تھا۔ایک ایسا مہمان آیا جو اتنا کھاتا تھا کہ جب وہ میز بان سالن پہنچا تا تھا اور روٹی لینے جاتا تھا تو سالن ختم ہو چکا ہوتا تھا اور روٹی رہ جاتی تھی۔پھر وہ دوڑتا تھا کہ روٹی کے لئے سالن لاؤں تو واپس آتا تھا تو روٹی ختم اور سالن باقی ہے۔اس کا گھر اجڑ گیا چند دن میں، جتنی بکریاں تھیں ذبح ہو گئیں۔بالآخر اس نے بڑے ادب سے اور احترام سے پوچھا اور عرب بدوؤں میں بہت مہمان نوازی کی روایات تھیں گھر تک قریب لٹا بیٹھا اس نے بڑے ادب اور احترام سے پوچھا یا حضرت! کدھر کا ارادہ ہے خیال آیا کہ تھوڑا سفر آگے بھی چلوں۔اس نے کہا بات یہ ہے کہ مجھے معدے کی تکلیف ہے بھوک نہیں لگتی اور ایک حکیم کا سنا ہے اس علاقے میں کہیں ایک حکیم ہے جو بھوک تیز کرنے کی دوائیں دیتا ہے میں اس کی خدمت میں جارہا ہوں۔تو اس نے ہاتھ باندھ کر عرض کی، عربی شعر ہے۔يا ضيفنا ان زرتنا لوجدتنا لمن الضيوف وانت رب المنزل اے میرے معزز مہمان اگر پھر تجھے توفیق ملی ہماری زیارت کرنے کی تو تو یہ دیکھے گا کہ ہم مہمان ہوں گے اور تو میزبان ہمیں مہمان رکھ لینا ہمارا سب کچھ قبضہ کر لینا اور میزبان بن جانا۔تو ایسے مہمان نہ بن کر آئیں کہ میزبان تو بہ توبہ کر اٹھے اور کہے کہ بس کافی ہوگئی ، آگے کہاں کا ارادہ ہے۔خود ہی اپنی حیا اور شرافت کے ساتھ وقت کے اندر اجازت چاہیں اور جہاں تک روزمرہ کی تکلیفیں جو اس بات سے وابستہ ہی ہیں ان کا تعلق ہے، اللہ ہر میزبان کو جزا دے گا جو اس کی خاطر قربانیاں کرتا ہے۔اللہ آنے والوں کو بھی بچے معنوں میں مسلمان مہمان بننے کی توفیق عطا فرمائے اور یہاں رہنے والوں کو بھی بچے معنوں میں مسلمان میزبان بنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایسے