خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد 14 537 خطبہ جمعہ 21 / جولائی 1995ء باقی عادات نمازیں درست کر لیں گی۔کئی دفعہ آپ نے دیکھا ہوگا بعض لوگ جو تہجد کے لئے اٹھتے ہیں وہ کچھ دیر مجلس میں بیٹھتے ہیں پھر معذرت کر لیتے ہیں کہ میاں ہم نے تو صبح اٹھنا ہے معاف کر دو ہمیں تو جانا ہی جانتا ہے۔تو جس کی نمازیں درست ہوں اس کے باقی کام بھی درست ہو جاتے ہیں، اس کی عادتیں بھی درست ہو جاتی ہیں اس کے اوقات مناسب وقتوں میں بانٹے جاتے ہیں اور ہر وقت کا جو اپنا حق ہے وہ اسے ادا کرتا ہے، نماز کی مجبوری کی وجہ سے پس نماز کو قائم کریں۔وَ مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ غیر اللہ کی طرف نہیں دیکھا۔تو کل کیا اللہ سے رزق پایا مگر جو پایا اسے صرف اپنے تک نہ رکھیں۔آگے پھر جتنا خدا نے دیا ہے توفیق ہو تو دوسروں کو بھی پیش کریں ان کو بھی اپنے رزق میں شامل کریں۔اب دیکھیں کتنا ز بر دست مہمان بن رہا ہے اللہ کے لئے۔ایسا مہمان ہے کہ اس کی ایک ایک ادا خدا کو پیاری ہے۔اسی لئے اس موقع پر فرماتا ہے أُولَيكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا یہ سچے مومن ہیں۔لَهُمُ دَرَجتُ عِنْدَ رَبِّهِمُ ان کی ایک ایک ادا خدا کے حضور ان کے درجے بنارہی ہے، ہر جو بات بیان کی گئی ہے اللہ کی خاطر وہ اختیار کرتے ہیں وہ اللہ کو اتنی پیاری ہے کہ ہر بات ان کا ایک درجہ بنا دیتی ہے۔لَهُمْ دَرَجَتُ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِیم ان کے لئے مغفرت ہے اور مغفرت کے بعد پھر رزق کریم ہے جس کا پہلے ذکر کر چکا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ تمام ان میز بانوں کو جو U۔K جماعت سے تعلق رکھتے ہیں خدا کی خاطر آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جس طرح میں نے بیان کیا ہے صبر اور حوصلے کے ساتھ مغفرت کا سلوک کرتے ہوئے جہاں تک ممکن ہے ان کی دلداری کرے اور دل آزاری کو معاف کر دیں اور آنے والوں کو میں اس ضمن میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے تین دن کی مہمانی رکھی ہے اس کے بعد فرمایا’صدقۃ صدقہ ہے اور مہمان کا فرض ہے کہ خصوصی اجازت لے کہ کیا چند دن اور آپ مجھے خوشی سے رکھ سکتے ہیں یہ مضمون ہے عام مہمانوں کا۔بعض رشتے دار ہیں، اپنی بچیاں ہیں اپنے گھر والے اور ہیں جو آپس میں ہمیشہ سے بعض روایتی تعلق رکھتے ہیں ایک دوسرے کے پاس جاتے ہیں، مہینوں بھی ٹھہر جاتے ہیں دونوں کی خوشی کا موجب بنتا ہے۔یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ سن کر رسمی طور پر جائیں اور تین دن کے بعد کہیں کیا ہم ٹھہر