خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 48

خطبات طاہر جلد 14 48 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء تمہیں مرد پیدا کیا ہے، مردوں والے اخلاق سیکھو اور کر کیوں رہے ہو، فور تو کرو تم نقلیں ماررہے ہو ان کی اور تم بڑے مرعوب ہو گئے ہو۔تم نے بچپن میں دیکھا ہے ان لوگوں کو، کبھی ٹیلی ویژن میں کبھی گلیوں میں اور تم سمجھتے ہو کہ بہت زبر دست لوگ ہیں اس طرح بال بڑھالئے اس طرح گئیں بنالیں اور بڑے رعب سے پھر رہے ہیں تو تم مرعوب ہوئے ہو۔اور ان کی نقلیں شروع کر دی ہیں۔اب یہ بات ایسی ہے کہ ایک دفعہ بھی مجھے مایوسی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔ہمیشہ بچوں نے اچھی Response دکھائی ہے۔بعض دفعہ دوبارہ ملنے آئے ہیں صحیح بال بنوا کر اچھے بھلے معقول بچے بیچ میں سے نکل آئے۔تو میں آپ کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ رعب ہے جو مارتا ہے اور دنیا میں بہت سے لوگ مرعوب رہ کر زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کا رعب دکھائی نہیں دیتا وہ خود اس رعب سے ناواقف رہتے ہیں جو ان کے اندر ان کی اقتدار پر قبضہ کر چکا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللہ اللہ کو نہ بھلانا۔نتیجہ یہ نکلے گا۔فَاَنَسهُمْ اَنْفُسَهُم تو ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا ، خدا ان کو ان کے اپنے نفوس کو بھلا دیتا ہے۔تو ایک ترجمہ تو اس کا ہے کہ وہ بچے جن کو وہ پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں جو ان کا کل بنائیں گے، ان بچوں کے مفادات سے ان کو غافل کر دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ جو غافل کرنا ہے یہ پہلے خود اپنے حال سے غافل ہوتے ہیں تب وہ بچوں کے حال سے ناواقف ہوتے ہیں۔تو یہ آیت دونوں جگہ اپنا عمل دکھا رہی ہے اور حقیقت میں اگر اسلامی یا مذ ہبی اقدار کی فضا میں آپ نے پلنا ہے اور اپنے بچوں کو پالنا ہے تو ایک اس کا نکتہ یہ ہے کہ اللہ کو یادرکھیں اور غیر اللہ کا رعب دل میں نہ آنے دیں۔رعب ہے، اگر آگیا تو پھر آپ مارے گئے پھر آپ کی اولا د آپ کے ہاتھوں سے نکل جائے گی، کسی قیمت پر آپ اس کو سنبھال نہیں سکیں گے لیکن اگر اللہ کی یاد غالب ہے تو دل ایک خاص نشے کی حالت میں رہتا ہے اس یاد سے متصادم چیز یں نظر کو بری لگتی ہیں اور از خود دل وہ فیصلے کرتا ہے جو بچوں کی حفاظت کے لئے مناسب اور ضروری ہیں کیونکہ اللہ سے پیا ر غیر اللہ کے مقابل پر ایک قسم کی الرجی پیدا کر دیتا ہے۔وہ اچھا نہیں لگتا دل کو گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے غیر اللہ کی حرکتیں دیکھ کر اور غیر اللہ کی حرکتیں بے شمار ہیں کوئی ایک نام ان کا نہیں رکھا جاسکتا لیکن انسان کا شعور اس کو ضرور بتا دیتا ہے کہ یہ اللہ والوں کی ادائیں ہیں یا یہ غیر اللہ کی ادائیں ہیں، ان میں فرق