خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 520
خطبات طاہر جلد 14 520 خطبہ جمعہ 21 جولائی 1995ء ہیں یا اسماء بیان ہوئے ہیں ان کا سورہ فاتحہ کی بنیادی صفات سے بھی تعلق ہے اور آپس میں بھی گہرے رابطے ہیں اور جب تک ٹھہر کر نظر غائر سے نہ دیکھا جائے اس وقت تک بعض دفعہ اس مضمون کا تعلق جو بیان ہو رہا ہے صفات سے ظاہری طور پر دکھائی نہیں دیتا مگر بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں جب یہ میرے بندے پیش ہوں گے تو ان کے لئے کیا ہوگا۔مخاطب کرتے ہوئے فرمایا وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ تمہارے لئے جنت میں وہ کچھ ہوگا جو تم چاہتے ہو، جس کی تمہیں تمنا ہے۔تَشْتَهِی اَنْفُسُكُمْ میں جس کی تمنا رکھتے ہو یعی حاجت ہے دل چاہتا ہے۔وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَعُونَ اور جو کچھ تم مانگو گے حاضر کر دیا جائے گا۔جب بھی کسی چیز کا شوق پیدا ہو، کوئی خواہش پیدا ہو تو تمہیں پیش کی جائے گی۔نُزُلًا مِنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمِ یہ مہمان نوازی بخشنے والے کی طرف سے ہے اور بار بار رحم کرنے والے کی طرف سے ہے۔اب سب سے پہلے صفت غفور کا ذکر فرمایا اور بظاہر مہمان نوازی کا اس صفت سے کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا مگر جہاں بھی آپ قرآن کریم میں مہمان نوازی کا ذکر پڑھیں گے وہاں رحیم کی تکرار تو نہیں مگر غفور یا مغفرت کی تکرار ضرور ہے اور حیرت انگیز طور پر اس مضمون میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔اس پہلو پر روشنی ڈالنے سے پہلے جو حصہ ہے اس کے متعلق میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اللہ جب اپنے بندوں کی مہمان نوازی فرمائے گا تو جو انداز اختیار کرے گا وہ سب سے پیارے انداز ہیں۔اللہ ہی سے اس کی صفت کے مطابق ہمیں رنگ پکڑنے چاہئیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ تمہارے لئے اس میں ہو گا جو تم چاہتے ہو اور اگر یہ ہے تو پھر تَدَّعُونَ کی کیا ضرورت ہے یہ بھی ایک سوال اٹھتا ہے۔اصل میں مَا تَشْتَهِی اَنْفُسُكُمْ سے مراد یہ ہے کہ دائمی طبعی عادات ہیں جو ایک شخص کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہیں اور میزبان کا فرض ہے کہ اگر وہ مہمان کو جانتا ہے تو اس کے مزاج کے مطابق وہ چیزیں مہیا کرے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان نوازی کے اس پہلو پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے یہاں تک کہ اگر کوئی تمباکو نوش مہمان بھی آتا تھا، خود پسند نہ کرتے ہوئے بھی ہدایت فرمایا