خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 489 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 489

خطبات طاہر جلد 14 489 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء جرائم ہیں اکثر رحمانیت ہی سے پھوٹ رہے ہیں یعنی وہ رحمانیت جو خدا کی نہیں ہے جو عدل سے عاری ہے اور بندوں کی رحمانیت ہے۔پس ایک اور سبق اس آیت کریمہ سے ہمیں یہ ملتا ہے کہ کوئی رحم جو عدل کے تقاضوں کو چھوڑ کر کیا جاتا ہے وہ جائز نہیں ہے پہلے عدل ہے پھر رحم ہے۔چنانچہ اسی ترتیب سے قرآن کریم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ پہلے عدل ، پھر احسان، پھر اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِ ذِي الْقُرْبی ( انحل: 91)۔پہلا قدم عدل کا ہے پھر احسان کا ہے پھر ایتاء ذی القربی ہے۔عدل سے اوپر کے دونوں مقامات رحمانیت کے تابع ہیں۔احسان بھی رحمانیت کے تابع ہے اور ايْتَائِ ذِي الْقُرُبی بھی رحمانیت کے تابع ہے لیکن عدل کی بنیاد نہ ہو تو یہ دومنزلیں اوپر بن ہی نہیں سکتیں۔اور عدل سچائی کا دوسرا نام ہے، حق کا دوسرا نام ہے۔پس سورۃ فاتحہ میں جو صفات ہیں یا اسماء الہی ہیں فی الحقیقت ان کا تمام صفات باری تعالیٰ سے گہرا تعلق ہے۔یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے اور اسے سمجھنے کے نتیجے ہی میں آپ ان چاروں صفات سے تعلق قائم کر سکتے ہیں اور خدا کی تمام صفات سے اس واسطے سے تعلق قائم کر سکتے ہیں لیکن اس کی راہ میں کچھ مشکلات درپیش ہیں کچھ امتحانات ہوں گے۔کہیں ربوبیت سے تعلق قائم کرنے کی راہ میں بے شمار مسائل آئیں گے، بے شمار وقتیں پیش آئیں گی اور آپ کے امتحان ہوں گے۔اللہ رب ہے یہ حق بات ہے لیکن آپ بھی رب بنتے ہیں اپنی اولاد کے لئے ، اپنے عزیزوں کے لیے ان کی بھی ربوبیت کرتے ہیں یہ بھی اپنے دائرے میں حق بات ہے لیکن اللہ کی ربوبیت کسی جھوٹ کی محتاج نہیں ہے۔اگر آپ کی ربوبیت جھوٹ کی محتاج ہے اگر رزق پیدا کرنے میں بددیانتیاں ہیں، دھو کے بازیاں ہیں اور دوسروں کے رزق چھینے گئے ہیں، ربوبیت کی بھی نفی ہو جاتی ہے، رحمانیت کی بھی ہو جاتی ہے، رحیمیت کی بھی ہو جاتی ہے اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی بھی ، یعنی اگر اس مضمون کو بڑے غور سے آپ پڑھیں گے تو بات وہاں جا کے ختم ہوگی۔پس صفات باری تعالیٰ سے تعلق زبان سے نام جپنے سے نہیں ہوسکتا۔پتا نہیں کن لوگوں کے دماغ میں یہ بات آگئی کہ ذکر الہی اس کو کہتے ہیں۔قرآن کریم کی رو سے ذکر الہی وہ ہے تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ (الزمر: 24) کہ اس سے انسان کے چمڑے پہ جھر جھریاں طاری ہو جاتی ہیں جو ڈوبتا ہے دل میں اور ایک زلزلہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ بھی ہو سکتا ہے کہ تسبیح کے دانے پر انگلیاں نہ چل