خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 488
خطبات طاہر جلد 14 488 خطبہ جمعہ 7 جولائی 1995ء سرزد ہو جائے جو قابل تعریف نہ ہوتو وہ رحمن صحیح معنوں میں نہیں رہتا۔مگر قرآن کریم میں براہ راست بھی رحمانیت کا حق سے ایک تعلق ظاہر کیا گیا ہے سورۃ الرحمن کو آپ پڑھ کر دیکھیں اس میں جتنے بھی مختلف دلچسپ انداز میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہے وہ سب دراصل رحمانیت کی تفسیر ہیں اور اسی لیے بار بار یہ تکرار ہے فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ (الرحمن : 14 ) وہ تمہارا رب جو رحمن ہے اس کی کسی نعمت کا تم انکار کرو گے۔اور اس میں جو سزائیں ہیں وہ بھی نعمت کے طور پر درج ہیں کیونکہ وہ سزائیں نہ ہوں تو نظام کائنات درہم برہم ہو جائے اور سارے معصوم لوگ مارے جائیں اور مصیبت میں گرفتار ہو جائیں۔تو یہ جو تعلقات ہیں بڑے باریک اور بڑے گہرے ہیں لیکن قرآن کریم میں ہر بات کھول کر پیش کر دی گئی ہے سورۃ الرحمن ہی میں شروع میں اللہ تعالیٰ رحمن خدا کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتا ہے۔وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ : أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ (الرحمن: 9-8) اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان قائم کی یعنی عدل قائم کیا اور عدل کا تر از وقائم کیا۔یہ دونوں باتیں میزان میں آجاتی ہیں اَلَّا تَطْغَوا فِي الْمِيزَانِ تاکہ تم عدل میں کبھی بھی بے اعتدالی نہ کرو۔ساری کائنات کی بناء عدل پر رکھ دی ہے اور رفعتوں کا تعلق عدل سے ہے ورنہ زمین میں بھی تو وہ میزان پایا جاتا ہے۔ذکر فرمایا ہے وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ دیکھو رفعتوں کی طرف تم کس طرح مرغوب ہو کر دیکھتے ہو لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ تمام رفعتوں کی بناء میزان پر ہے اگر میزان نہ رہے تو کوئی رفعت باقی نہیں رہتی اور نصیحت یہ ہے اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ کہ تم میزان میں کبھی بھی بے اعتدالی سے کام نہ لینا۔پس اس موقع پر اس آیت کی تفسیر کھل کر ہمارے سامنے آ جاتی ہے ایک طرف حضرت میر صاحب کا اپنے بچے کے لئے رحم تھا جو جوش مار رہا تھا دوسری طرف یہ تعلیم تھی کہ رحمن خدا ہی نے عدل بنایا ہے اور یہ کھول کر تمہارے سامنے اس لئے پیش کر رہا ہے تا کہ تم کبھی بے اعتدالی نہ کرنا۔تو جو رحمن کے حقیقی معنی تھے ان کا گہرا تعلق انصاف اور سچائی سے تھا۔اگر رحمانیت کے نام پر ، رحم کے نام پر آپ سچائی کو چھوڑ دیتے تو رحمن سے تعلق کٹ جاتا۔پس آپ نے بھی اگر رحمن خدا سے تعلق قائم کرنا ہے تو حق کے رستے سے تعلق قائم ہو گا فرضی رحمانیت کے ذریعے نہیں ورنہ جتنے دنیا میں