خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 487
خطبات طاہر جلد 14 487 خطبہ جمعہ 7 / جولائی 1995ء نہیں سکتی تو وہ بیچارے اس عرصے میں پھر گئے۔جب عدالت میں پیش ہوئے اور ڈپٹی کمشنر نے پوچھا تو انہوں نے کہا نہیں غلط بات ہے میں نے تو نہیں ایسا کیا۔حضرت میر صاحب کی جوشان تقویٰ ہے وہ اس طرح ظاہر ہوتی ہے اسی وقت کھڑے ہوئے اور پہلے چونکہ پوچھ چکے تھے ، پتا تھا اب گواہی دے سکتے تھے ڈپٹی کمشنر سے کہا یہ جھوٹ بول رہا ہے اس سے پوچھیں کہ جو تم نے دایاں ہاتھ جیب میں ڈالا ہوا ہے یہ کیوں ڈالا ہوا ہے نکالو تو سہی، اس کا انگوٹھا دیکھیں جس زور سے اس نے مکا مارا تھا اسی وقت سے اس کا انگوٹھا جو ہے زخمی ہے اور اسی لیے آپ کی عدالت میں جیب میں ہاتھ چھپایا ہوا ہے تاکہ پتا نہ لگ جائے۔جب ہاتھ نکلوایا تو واقعی انگوٹھے پر وہ بہت زور سے، جو شدت سے مکا مارا تھا تو بعض دفعہ ضرب آجاتی ہے اس کی وجہ سے جو نشان تھا وہ سوجا ہوا تھا تو جج نے وہیں بات ختم کر دی اور اس کے بعد اس کی نیت ظاہری طور پر یہی تھی کہ ان کو پھانسی چڑھا دے گا۔اب حضرت میر صاحب اپنی اولاد سے بہت محبت کرتے تھے یہ میں رحمانیت کی مثال دے رہا ہوں کہ وہ واقعہ مجھے اس ضمن میں کیوں یاد آیا اور اس کا کیا گہرا تعلق ہے۔سچائی اور رحمانیت کا رشتہ کیا ہے۔ان کو بہت پیار تھا اپنی اولا د سے ویسے ہی بہت شفیق تھے انہوں نے جانماز بچھالی۔رات کو رورو کے گریہ وزاری شروع کی کہ اے میرے آقا تیری خاطر میں نے سچ بولا ہے تو حق ہے مگر تو جانتا ہے کہ میرے بچے کا قصور بھی کوئی نہیں اور مرا تو اس کے ہاتھوں ہے مگر بالعمد قتل نہیں ہے اس لیے بچانا بھی تو نے ہی ہے جس دن فیصلہ سنایا جانا تھا اس سے ایک دن پہلے اچانک اس ڈپٹی کمشنر کی تبدیلی ہوگئی اور فیصلہ سنائے بغیر اسی طرح رہ گیا۔جو دوسراڈ پٹی کمشنر آیا ہے اس نے جب کیس دیکھا تو اس نے کہا ، اس کے الفاظ یہ تھے کہ یہ کیا پاگلوں والی بات ہے ہم بھی تو کبھی جوان ہوا کرتے تھے ہمیں پتا ہے کہ جوانی کے جوش میں مقابلے ہو جاتے ہیں لڑائیاں ہو جاتی ہیں ارادہ تو قتل کا نہیں ہوا کرتا اس لیے کیس ہی Dismiss کیا جاتا ہے اس میں کوئی جان نہیں۔تو یہ جو واقعہ ہے یہ دراصل اس بات پر گواہ ہے کہ رحمانیت جھوٹ کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ سچ کو آزماتی ہے اور جو اس آزمائش میں پورا اترے گا وہی سچا رحمن ہے اور اسی کا رحمن خدا سے تعلق قائم ہوتا ہے اور وہ بڑی شان کے ساتھ اس تعلق کو پھر ظاہر بھی فرما دیتا ہے۔رحمانیت کے تعلق میں میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ چونکہ صاحب حمد ہے وہ، رحمن بھی صاحب حمد ہے اگر رحمن سے کوئی ایسی بات