خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 472

خطبات طاہر جلد 14 472 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء لوگ جو شامل تھے وہ پتے پوچھتے پوچھتے پیچھے آئے کوئی قادیان جاکے پہنچا، کوئی دوسرا ان کے گھران کی بستی میں اگر وہاں رہتے تھے پہنچ گیا۔کہا جی ہم بھی وہاں شامل تھے ، ہمیں یہ پتا ہے کہ آپ سچے تھے وہ جھوٹے تھے۔دلائل ہمیں زیادہ نہیں پتا، آپ کی سچائی ظاہر و باہر تھی۔پس حق چھپائے سے چھپتا نہیں ہے نہ جھوٹ چھپائے سے چھپ سکتا ہے بالآخر ضرور ظاہر ہو جائے گا لیکن اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دشمن ایک دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ باطل کے اوپر حق کی چادر پہنا دے اور حق کے نام پر جھوٹ کو پیش کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر خدا کی تقد مراسے ضرور نا کام بنا کے دکھاتی ہے۔ایک تو اہل کتاب کی یہ صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یاهْلَ الْكِتَبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَانْتُمْ تَعْلَمُونَ ( آل عمران : 72) اے اہل کتاب تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جھوٹ کے ذریعہ حق کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہو ، اس پر چادر ڈال رہے ہو اور تم جانتے ہو کہ حق ہے۔اگر تمہیں یہ علم ثابت کر گیا کہ تم جھوٹے اور خدا کے حضور لازماً جواب دہ ہو گے۔اس میں غلط فہمی کا کوئی سوال نہیں رہا۔جس کو یہ پتا نہ ہو کہ یہ حق ہے وہ اس پر خواہ مخواہ جھوٹ کی چادر ڈالے گا کیوں۔جھوٹ کی چادر استعمال کر کے چھپانے کی کوشش بتارہی ہے کہ دل سے ان کا نفس گواہ بن گیا کہ ہے سچا اگر اس کو جھوٹ سے چھپایا نہ گیا تو غالب آجائے گا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں کیا فائدہ ہو سوائے اس کے کہ تم پکڑے گئے خدا کی تم پر حجت تمام ہوگئی لیکن جب یہ صورت ہو تو اللہ تعالیٰ پھر اپنی دوسری غالب تقدیر کو ظاہر فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بَلْ نَقْذِفَ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ (الانبیاء: 19) کہ جب وہ ایسی حرکتیں کرنے لگتے ہیں تو پھر ہم اپنا جلالی غلبہ مومنوں کے حق میں ظاہر کرتے ہیں۔حق کے طرفداروں کی تائید میں ایک جلالی شان ظاہر کرتے ہیں۔بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں۔فَيَدُ مَخُہ وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔تو پھر اس سے بھاگے بغیر بن نہیں پڑتی۔پس یہ جو آسمان سے تائیدی نشان ظاہر ہوتے ہیں۔یہ صبر کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں اگر آپ حق پر قائم رہیں اور حق کو چھوڑ کر باطل کی پناہ نہ لیں۔پس ہر داعی الی اللہ کو اپنے اندر سچائی کے معیار کو بلند کرنا ہوگا اور یہ اگر سچائی کا معیار روزمرہ