خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد 14 41 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء ہے لیکن اس کے باوجود بڑی باہمت جماعت ہے۔بہت مخلص اور قربانی کے لئے ہمیشہ ہر وقت تیار اس لئے سب عالمگیر جماعتوں کی دعائیں ان کو ضرور پہنچتی رہنی چاہئیں۔اللہ ان کے حالات میں ایسی پاک تبدیلی پیدا فرمادے کہ جس کے نتیجے میں دوسری قوم یعنی احمدیوں کے علاوہ جو بنگالی لوگ ہیں ان کو اللہ عقل دے اور ایسی غلطیوں سے بچائے جن کا خمیازہ پھر ہمیشہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔خداوالوں کی مخالفت کوئی ایسا اثر نہیں دکھاتی جو آج ہوا اور کل غائب ہو گیا یہ دائماً پیچھے پڑ جاتی ہے اور خود اپنی ہی مخالفت ہمیشہ اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتی جب تک اس غلطی کا پورا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے، پورا انتقام نہ لے لیا جائے۔حضرت سید عبداللطیف شہید کا خون دیکھیں کہ کتنے کتنے رنگ دکھلا رہا ہے اور ابھی وہ سلسلہ جاری ہے۔آپ نے اپنی شہادت سے پہلے قوم کو متنبہ کیا تھا، یہ خون اس ملک میں نہ بہاؤ کیونکہ اس کی تمہیں بہت بڑی سزا بھگتنی پڑے گی اور اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ بہت بُرے دن تم دیکھو گے اس کے نتیجے میں۔تو وہ خون کے چند قطرے جو اس سرزمین پر از راہ ظلم بہائے گئے تھے وہ آج تک بے شمار خون کی ندیاں اور نالیاں بن کر بہتی رہی ہیں اور ابھی وہ سزا معلوم ہوتا ہے پوری نہیں ہورہی۔یہ مضمون بھی قابل توجہ ہے کہ خدا چھوٹے جرم کی بڑی سزا کیوں دیتا ہے حالانکہ یہ انصاف کے تقاضے کے خلاف ہے۔دراصل یہ سمجھنے کی غلطی ہے۔ایک ظلم کا ایک انداز جب قوم اپنالے تو ساری قوم کو اس کی سزا ملتی ہے اور جب تک وہ ظلم کے اپنائے ہوئے انداز سے خود اپنا پیچھا نہیں چھڑاتی اس وقت تک سزائیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔تو سزائیں اس بات کی علامت نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پرانے خون کے نتیجے میں وہ انتقام لینا شروع کیا جو اس کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا۔یہ سزا ئیں اس بات کی علامت ہیں کہ یہ لوگ ابھی تک اسی نہج پر ہیں، ابھی تک ان کے دلوں میں سفا کی ہے اور خدا کے نام پر ظلم کرنے کی سرشت ابھی تک رنگ دکھا رہی ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔یہ مضمون ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ سزاؤں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے ورنہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر اور کئی قسم کے اعتراض وارد ہوں گے۔اب یہود کے متعلق فرمایا کہ ہمیشہ تمہیں دنیا کی طرف سے بھی اور آسمان کی طرف سے بھی عذاب پہنچتے رہیں گے۔اگر وہ بنیادی سرشت جس کی سزا یہ عذاب ہیں تبدیل نہ ہوتو ہر وقت وہ