خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 438
خطبات طاہر جلد 14 438 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء ماں سورہ فاتحہ ہے اس طرح اسماء باری تعالیٰ کو سمجھنے کے لئے بھی سورہ فاتحہ کی طرف رجوع کرنا چاہیئے اور اس کے تعلق سے یہ مضمون زیادہ کھل کر سامنے آتا ہے۔اب میں ان آیات کی بات کرتا ہوں جن میں اس مضمون کو مختلف رنگ میں پھیر کر بیان فرمایا ہے۔اب تک تو میں یہ بات پیش کر رہا تھا۔جس میں جھوٹ کی وجوہات بیان ہوئی ہیں اور ان کی روشنی میں ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفت حق ، اس کا حق ہونا سورہ فاتحہ کی جوام الصفات ہیں ان سے گہرا قطعی تعلق رکھتا ہے اور سو فیصد یقین کے ساتھ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ان صفات کا مالک جھوٹا ہو ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے کہ اس کا جھوٹ سے کوئی تعلق ہو اور چونکہ جھوٹ کے ہر پہلو کی نفی ہوگئی ہے اس لئے اسے ”الحق کہا جا سکتا ہے۔کامل سچا جس کا جھوٹ کے کسی پہلو سے بھی دور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے جو حق صفت کو استعمال فرمایا ہے۔جن جن موقعوں پر جہاں جہاں ان پر اگر آپ غور کریں تو آپ کو اپنے کردار کے لئے اس میں بہت سی روشنی ملے گی اور حق ذات کو سمجھ کر وہ کیا چاہتا ہے اور اس سے کیا کیا فوائد وابستہ ہیں۔ایک بات تو بہر حال قطعی طور پر ماننی ہوگی کہ اگر آپ حق کی ہر صفت سے عاری ہیں تو حق سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔تعلق کسی قدر اشتراک سے ہوا کرتا ہے۔اگر کوئی اشتراک نہ ہو تو تعلق ٹوٹ جاتے ہیں اس لئے آخری صورت میں اگر اور کوئی تعلق نہ ملے تو انسان انسان کا تعلق ہی ہے۔اگر جنگل میں دو تین آدمی رہ جائیں تو ان کا شیروں سے تو تعلق نہیں آپس میں تعلق ہوگا لیکن شیر اگر رہ جائیں انسان نہ ہوں اور کوئی آفت آپڑے تو شیروں کا آپس میں تعلق ہوگا۔ایک بہت بڑے آرٹسٹ نے ایک طوفان کی تصویر بنائی ہے اس میں طوفان میں گھرے ہوئے گھوڑے ایک دوسرے سے گردن جوڑے کھڑے ہیں جو عام طور پر بڑے شدید اور طاقتور اور تیز مزاج کے گھوڑے نظر آرہے ہیں۔جو عام حالات میں ایک دوسرے کو مارتے ،ایک دوسرے سے رقابت کرتے ، گھوڑیوں کی خاطر ان کی لڑائیاں ہوتیں لیکن اس طرح وہ جڑے کھڑے ہیں آپس میں کہ جیسے ان سے بڑھ کے محبت ہو ہی نہیں سکتی۔تو Common جو مشترکہ خطرات ہیں ان کے نتیجے میں کوئی قدر مشترک ہوتی ہے جو انسان کو یا ایک جاندار کو دوسرے جاندار سے جوڑتی ہے۔اگر صفات باری تعالیٰ