خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 437
خطبات طاہر جلد 14 437 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء بائیل سے لے کر اور آنکھیں بند کر کے قبول کر لئے۔دراصل حضرت داؤد کو یہ نصیحت فرمائی گئی تھی کہ تجھے خدا نے عظیم سلطنت عطا کی ہے لیکن بڑی سلطنتوں کی ہمسائیگی میں چھوٹے چھوٹے ممالک بھی ہوا کرتے ہیں اور بسا اوقات ایک انسان کو، ایک بادشاہ کو یہ بات دھوکے میں مبتلا کر دیتی ہے کہ یہ بڑے کا حصہ بن جائیں گے تو اچھے رہیں گے اور ہماری طاقت بڑھے گی اور ان کا بھی کیا نقصان ہے ایک بڑی سلطنت کا حصہ بن جائیں گے تو اس قسم کے نفس کے دھو کے بعض دفعہ ظلم پر مجبور کر دیا کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کیونکہ مالک ہے اور مالک کل ہے اس لئے اس کو کسی اور چیز کو اپنانے کی ضرورت نہیں نہ جھوٹ بول کے، نہ ظلم کی راہ سے ، ضرورت ہی کوئی نہیں اور اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حق کی صفت کو ملک کی صفت کے ساتھ باندھا ہے اور مالک کی صفت سے نہیں باندھا۔یہ آگے جا کر جب میں آیات کو تفصیلی طور پر اس مضمون میں بعض اور مثالیں آپ کے سامنے رکھوں گا تو یہ ایک دلچسپ چیز سامنے آئے گی کہ خدا تعالیٰ کے حق ہونے کی صفت کو مالک کی بجائے ملک سے باندھا گیا ہے اور اس کی وجہ وہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ملک قانون کا حکمران ہوتا ہے اور نا انصافی کا تعلق قانون سے ہے مالکیت سے نہیں ہے۔اگر کوئی شخص مالک ہے۔تو کسی ایک کو دے دے اور کسی کو نہ دے تو اس کو نا انصافی نہیں کہہ سکتے۔جس کو مرضی دے دیں آپ، جس پر دل آجائے اس کو آپ عطا کر دیں۔آپ مالک ہیں آپ کی چیز ہے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا اوہو! آپ نے بڑی نا انصافی کی ہے سارا شہر بستا ہے اس میں سے ایک کو دے دیا اور کروڑ باقی رہ گئے ان کو کچھ نہیں دیا۔تو یہ جہالت ہے اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں۔اصل میں صفت حق کا یا انصاف کا مالکیت سے تعلق نہیں ہے ملکیت سے تعلق ہے۔تو قرآن کریم نے جہاں جہاں اس تعلق کو باندھا ہے وہاں ملک کا لفظ استعمال فرمایا ہے، مالک کا نہیں لیکن اس کے با وجود یہ سورہ فاتحہ میں داخل ہے کیونکہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا مضمون ملوکیت پر حاوی ہے اور ملکیت پر بھی حاوی ہے۔فیصلہ کرنے والا بھی وہی ہے ، قضا بھی اسی کے پاس ہے اور مالک بھی وہی ہے۔تو حق کا لفظ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یا حق کا اسم سورہ فاتحہ میں ہر اس اسم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جو بیان ہوا ہے اور اس سے باہر کچھ نہیں ہے۔پس اس بات کا کامل یقین رکھیں کہ صفات باری تعالیٰ کی ماں سورۃ فاتحہ ہے یعنی وہ صفات ہیں جو سورہ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں اور جس طرح کتاب کی