خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 436 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 436

خطبات طاہر جلد 14 436 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء پھر از راہ ظلم کئی دفعہ جھوٹ بولا جاتا ہے اور ظلم کی وجہ، درحقیقت مالکیت کی کمی ہے۔جو شخص مالک نہیں ہوگا اور ہر چیز کا مالک نہیں ہوگا۔جہاں اس کی ملکیت سے باہر کوئی مالک ہوگا اس کے دل میں تمنا پیدا ہوگی کہ میں اس کی ملک کو بھی لے لوں۔یہ حرص ہے ظاہر ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے لیکن اس مضمون کا ایک تعلق ملکیت سے بھی ہے، بادشاہت سے بھی ہے ایک تو وہ لوگ ہیں جو بادشاہ نہیں ہوتے اور بادشاہ نہ ہونے کی وجہ سے جھوٹ بول کر دوسرے کا مال یہ کہہ کر لیتے ہیں۔یہ ہمارا تھا مگر لینے کا اختیار ان کو نہیں ہوتا۔لینے کا اور دینے کا اختیار ایک حکومت کو ہوتا ہے۔بادشاہت کسی اور کی ہوتی ہے۔جو خود بادشاہ ہو وہ اگر لے گا تو ظلم کی راہ سے لے گا اور خدا تعالیٰ جو مالک کل ہے، جس کی ملکیت کا دائرہ ہر چیز پر حاوی ہے اور بادشاہ بھی وہی ہے اس کو کسی جھوٹ کی ضرورت نہیں ہے اور بعض دفعہ ایسی غلطیاں، خفیف سی غلطیاں ایک نیت پر اثر انداز ہو جاتی ہیں اور بڑے بڑے بزرگوں کی نیت پر بھی بعض دفعہ ایسی چیزوں کا ہلکا سا سایہ پڑ جاتا ہے۔حضرت داؤد کی مثال قرآن کریم پیش فرماتا ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ رات کے وقت وہ شخص چھلانگ لگا کر ان کے قلعے میں، ان کے محل میں داخل ہو گئے اور کہا کہ ڈرو نہیں اے داؤد، یہ نہ سمجھ کہ ہم چور اچکے ہیں یا ڈاکو ہیں۔کسی شور کی ضرورت نہیں ہم تو ایک مقدمہ پیش کرنے آئے ہیں اور مقدمہ یہ ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ میرے پاس ایک بھیڑ ہے صرف اور یہ جو میرا بھائی ہے یا ساتھی اس کے پاس ننانوے ہیں۔یہ کہتا کہ اپنی ایک مجھے دے دوتا کہ میری سوپوری ہو جائیں اور میں کہتا ہوں کہ میرے پاس ایک ہی ہے میرے پاس تو کچھ بھی نہیں رہے گا۔تو بتا کہ اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہے۔تو حضرت داؤد نے فیصلہ تو دیا لیکن ساتھ سجدہ ریز ہو گئے یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ نے مجھے آزمایا ہے۔آزمایا ہے اور متنبہ فرمایا ہے کہ کہیں تم جس کی ملکیت بھی اور جس کی سلطنت بھی توسیع پذیر ہے، پھیلتی چلی جارہی ہے اس خیال سے کہ ہمسایہ ملکوں میں سے کوئی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں انہوں نے الگ رہ کر کیا کرنا ہے ان کو بھی ساتھ شامل کرو، زیادتی نہ کرنا کسی پر۔بعض مفسرین نے تو اس کا بالکل لغو، بیہودہ ترجمہ کیا ہوا ہے کہ ننانوے بیویاں تھیں تو کسی اور کی سود میں لینا چاہتے تھے۔اگر وہ بادشاہ تھے تو ساری سلطنت کی حسین ترین عورتیں ان کے قبضے میں تھیں اس زمانے میں بادشاہت تو مطلق العنان ہوا کرتی تھی۔یونہی فرضی قصے بنائے ہوئے ہیں