خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 411

خطبات طاہر جلد 14 411 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء جنت اور جہنم کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم صفات باری تعالیٰ کو اس کی حقیقت ، اس کی کنہہ کے ساتھ سمجھتے ہیں یا نہیں اور اگر سمجھتے ہیں تو اس جیسا بننے کی ضرور کوشش کریں گے اگر نہیں سمجھتے تو اس جیسا بننے کی کوشش نہیں کریں گے اور اس کا دوہرا نقصان ہے۔وہ جہنم جو بعد میں ملنی ہے اس سے پہلے اس دنیا میں بھی ہم خود اپنے لئے جہنم بنا لیتے ہیں۔تمام عالم پر غور کر کے دیکھ لیں ہر فساد کی جڑ کسی اسم الہی کی مخالفت کے نتیجے میں ہے۔جہاں جہاں اسماء الہی کی بے حرمتی انسان اپنے عمل سے کرتا ہے وہاں وہاں فساد پیدا ہوتا ہے وہاں وہاں انسان کے لئے جہنم نکل آتی ہے۔تو اس دنیا کا ہمارا عمل قطعی طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ جو جہنم بعد میں بنے گی وہ بھی ہمارے اعمال سے ہی بنے گی اور اس کا انحصار بھی صفات باری تعالیٰ کے قریب تر ہونے یا اس سے دور تر ہلنے کے اوپر ہے۔اگر قریب تر ہوں گے تو جنت کی طرف کا سفر ہے اگر صفات باری تعالیٰ سے دور ہٹ رہے ہوں گے تو جہنم کی جانب سفر ہے اور اس دنیا میں بھی انسان روزمرہ کے مشاہدہ سے یہ بات جانتا ہے اور سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے کہ ہر فساد کی جڑ کسی صفت الہی کی مخالفت ہے۔کہیں انسان عدل سے گر جاتا ہے، کہیں رحم سے گر جاتا ہے، کہیں اور صفات باری تعالیٰ ہیں۔علم کی صفت ہے اور بہت سی صفات ہیں ان میں جہاں جہاں بھی کمی آئے وہاں وہاں انسان اپنے لئے ایک جہنم بنالیتا ہے۔اب وہ قومیں جو صاحب علم ہیں وہ بعض دفعہ جانے بوجھے بغیر بھی خدا کی ایک صفت سے مشابہت اختیار کر جاتی ہیں اور جہاں جہاں وہ صفت علیم کے قریب ہوئی ہیں وہاں وہاں انہوں نے اپنی جنت بنائی ہے۔اس لئے یہ بہت ہی وسیع اور گہر ا مضمون ہے۔اس کا تمام کائنات سے تعلق ہے۔اس لئے چونکہ ہماری زندگی ، ہماری بقاء ، ہماری بہبود، ہمارے مضرات اور ہمارے نقصانات کا اس مضمون سے تعلق ہے اور سمیع بصیر ہمیں بنایا اس لئے گیا ہے تا کہ ہم صفات باری تعالیٰ پر غور کر سکیں اس لئے لازم ہے کہ ہم ان صفات کو سمجھیں اور ان کے دائیں طرف بیٹھیں، ان کے بائیں طرف نہ آئیں۔دائیں طرف بیٹھنے کا مضمون یہ ہے کہ جو بعض عیسائیوں نے سمجھا نہیں کہ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے خدا کے دائیں طرف بیٹھ گئے۔دائیں طرف سے مراد یہ ہے کہ نیکیوں کے ساتھ ، اس کی اطاعت میں جان دے دی اور اس کے دائیں ہاتھ بیٹھے یعنی اس کی مخالفت میں نہیں آئے اور