خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 410

خطبات طاہر جلد 14 410 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء سے اور آئندہ اس سفر میں ترقی کرنے سے ایسا ہی تعلق ہے جیسے ایک مسافر کا زادراہ سے تعلق ہوتا ہے۔کوئی شخص اپنے ساتھ زادراہ لے کر نہ چلے تو وہ سفر میں یا ہلاک ہو جائے گا یا لوگوں کی محتاجی میں پڑا رہے گا۔پس زادراہ کے لئے دو صفات جو انسان کو اللہ نے عطاء فرمائی ہیں ایک سننے والی ہے اور ایک دیکھنے والی ہے اور سننے کے نتیجے میں الہام سے اس کا تعلق پیدا ہوتا ہے اور دیکھنے کے نتیجے میں خدا تعالی کی سنت پر غور کر کے اس کو اور بصیرت عطا ہوتی ہے۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ کو کل عالم میں جیسا وہ جلوہ گر ہو رہی ہیں ان پر غور کرے، ان پر فکر کرے اور ان جیسا بننے کی کوشش کرے۔جوں جوں انسان خالق کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے اسی حد تک اس کی زندگی کا مقصد پورا ہوتا ہے۔ورنہ وہ واپس جانوروں کی حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔انسان میں اور جانور میں جو فرق ہے وہ صفات باری تعالیٰ کی اعلیٰ جلوہ گری اور ایک مبہم سی جلوہ گری کا فرق ہے۔جانوروں میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سننے کی طاقت بھی ہوتی ہے دیکھنے کی طاقت ہوتی ہے لیکن کسی جانور کی زندگی کے تعلق میں اللہ تعالیٰ نے اسے سَمِيعًا بَصِيرًا (النساء: 59) قرار نہیں دیا۔پہلی بار انسان کے حق میں یہ دوصفات بیان فرمائی ہیں جو اللہ کی صفات ہیں۔تو انسان سے پہلے کی زندگی میں صفات باری تعالیٰ ایک مبہم حالت میں رہتی ہیں اور کوئی معین ٹھوس پیغام اس کو ایسا نہیں دیتیں کہ وہ اپنے گرد و پیش، اپنے ماحول سے بالا ہو کر کائنات میں خدا پر غور کر سکے اور کائنات کے خدا پر غور کرنا اس کی وسعتوں کے ساتھ ، اس کی گہرائی کے ساتھ انسان کے سمیع اور بصیر ہونے کا تقاضا کرتی ہیں اور یہی جانور کے ساتھ فرق ہے۔تو زادرہ تو لے لیا اور سفراختیار ہی نہ کیا تو کیسی بے وقوفی ہوگی۔تیاری ساری کر لی لیکن آگے قدم نہ بڑھایا۔پس آگے قدم بڑھانا صفات باری تعالیٰ کے تعارف کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اور دوسرا یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ (البقرہ:157) میں ہمیں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔اب جس کی طرف لوٹ کر جانا ہے اگر آپ کی صفات اس کے ہم مزاج نہ ہوں تو اس کی طرف لوٹ کر جانا ہی جہنم کا دوسرا نام ہے اور اگر آپ کی صفات اس کے ہم مزاج ہو جائیں اور آپ ان کو سمجھیں اور ان سے لذت یاب ہوں اور اتنی پیاری لگیں کہ اپنی ذات میں ان کو جاری کرنے کی کوشش کریں تو اس وقت پھر اس کی لقاء جنت بن جاتی ہے۔تو انسان کی