خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 36

خطبات طاہر جلد 14 36 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء نہیں ہوتا۔جو جتنا کھرا ہے اتنا دکھائی دیتا ہے جو جتنا کھوٹا ہے اتنا کھوٹا معلوم ہوتا ہے اور ایسی صورت میں ایک عالمی تعلق کی بنیاد ڈالی جاتی ہے اور آنحضرت ﷺ کو جو کل عالم کے لئے رسول بنا کے بھیجا گیا ہے اس کا گہرا تعلق اس خلق سے ہے جو تو حید کے نتیجے میں آپ کے وجود میں غیر معمولی طور پر صیقل کیا گیا۔ایک روشنی کا جہان آپ کے وجود میں سے پھوٹا ہے اور وہ اللہ کا نور تھا اور وہ نو ر تھا جو مشرق اور مغرب میں تمیز نہیں کرتا ، جو شمال اور جنوب میں تمیز نہیں کرتا۔دیکھتا سب کچھ ہے اور اپنی اصلی حالت پر ہر ایک چیز دکھاتا ہے لیکن تعصبات سے پاک ہے۔یہی وہ حقیقت ہے جس کو سمجھ کر اپنائے بغیر جماعت احمد یہ اپنے اعلیٰ مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتی اور جتنی جلد ہم انفرادی طور پر اپنے اندر یہ پاک تبدیلیاں پیدا کریں گے اتنی جلد ہم دنیا میں عظیم انقلاب بر پا کرنے کی اہلیت حاصل کر لیں گے اور اس کے بغیر وہ انقلاب ہونا نہیں ہے جہاں مرضی آپ بیٹھے رہیں جس مرضی تصور میں وقت گزاریں۔انقلاب کے لئے تبلیغ ضروری ہے اور بعض دفعہ تبلیغ سے کچھ بیعتیں بھی ہاتھ آجاتی ہیں مگر وہ انقلاب نہیں کہلا سکتا جب تک آپ کا حسن خلق آپ کے پیدا کردہ نومبائعین میں سرایت کر کے ان میں بھی اسی حد تک اخلاقی انقلاب پیدا نہ کرنا شروع کر دے اس لئے اس پر بھی راضی نہ ہوں کہ آپ نے تبلیغ کی اور ایک ہزار احمدی ہو گئے یا دس ہزار احمدی ہو گئے۔تبلیغ کی روح خلق میں تبدیلی ہے ، اخلاقی انقلاب ہے۔اگر آپ کی تبلیغ سے آپ کا اخلاقی انقلاب جو پہلے آپ کے اندر بر پا ہوا ہے دوسروں میں سرایت کر رہا ہے اور اسی جذبے کے ساتھ ان کو اپنے وجود کی نئی شناسائی حاصل ہوتی ہے اور اسی جذبے کے ساتھ وہ شناسائی اللہ کی شناسائی کے ساتھ امتزاج پکڑ جاتی ہے، اس کی ذات میں مل جاتی ہے جب یہ ہوگا تو وہ حقیقی انقلاب کی بنیاد ہوگی۔اگر یہ نہیں ہے تو یہی تعداد بعض دفعہ مصیبت کا موجب بن جاتی ہے یعنی نام کے احمدی بن گئے ہیں اور ان کے اندر پاک تبدیلیاں نہیں پیدا ہور ہیں۔نتیجہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ آپ کے نام کے لئے عزت کا موجب بنیں یا واقعہ دنیا میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کی راہ میں ایک مفید وجود ثابت ہوں یہ برعکس نتیجہ ظاہر کرتے ہیں۔وہ اپنی بدیوں کو آپ کے اندر داخل کرنے لگ جاتے ہیں ان کی کمزوریاں آپ کے اندر سرایت کرنے لگ جاتی ہیں۔آپ ان کو اگر اس طرح Accept کر لیتے ہیں ، اس طرح قبول کر لیتے ہیں کہ ٹھیک ہے نام بدل لیا ، اپنے آپ کو احمدی کہنے لگ گئے تو یہی کافی ہے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ جن برائیوں کے