خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد 14 399 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء نہیں کر سکو گے وہاں اپنی رحمانیت کا بھی حوالہ دیتا ہے۔پس وہ اگلی آیت جس میں یہ مضمون ہے سورہ محمد سے لی گئی ہے۔آیت 39۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَهَانْتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ وَمَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهِ وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وانْتُمُ الْفُقَرَاءِ وَإِنْ تَتَوَلَّوْايَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ کہ دیکھو! کھانتُم هؤلاء سنوتم وہ لوگ ہو کہ جن کو بلایا گیا ہے اس طرف لِتُنْفِقُوافی سَبِیلِ اللہ کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔اب هَانَتُهُ هَؤُلاء سے پتا چلتا ہے کہ اعزاز ہے جس کا ذکر ہورہا ہے۔اے لوگو! تم سوچ نہیں رہے کہ کتنا بڑا اعزاز ہے کہ خدا نے تمہیں چن لیا قربانیوں کے لئے تمہیں فرمایا کہ تم آؤ تم سے توقعات رکھیں اور پھر بدنصیب ایسے ہیں تم میں سے فَمِنْكُمُ مَّنْ يَبْخَلُ کہ تم میں ایسے بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں بخل کرنا ثابت کرتا ہے کہ وہ اللہ کو معطی نہیں سمجھتے بلکہ اپنے گھر کی کمائی سمجھتے ہیں۔اپنے ہاتھ کی ہوشیاری ، اپنے ذہن کی چالا کی سمجھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہم نے تو بڑی محنت سے کمایا ہے ، بڑے دن رات جاگے ہیں۔اس کے لئے ہوشیاریاں کیں باقی سب بے وقوفوں کو کیوں نہ دولتیں مل گئیں۔ہمارے ذہن کی جو بالا دستی ہے، برتری ہے اس نے ہمیں یہ سب کچھ عطا کیا ہے اور وہ آجاتے ہیں چندے مانگنے۔وہ جب یہ کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنْكُمْ مَّنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهِ که یاد رکھو جو تم میں سے بخل کرے گا وہ اپنے آپ سے بخل کر رہا ہے خدا سے بخل نہیں کر رہا۔اس ذات سے تعلق توڑ رہا ہے جو دینے والی ہے۔جب اس کے سامنے تم سر اٹھاؤ گے تو دو باتوں میں سے ایک چیز ضرور ہوگی اور یہ بخل کرنے کا جو مضمون ہے یہ دو طرح سے کھلتا ہے۔اول یہ کہ ایسے شخص کی دولت اس کو کبھی سکون نہیں پہنچا سکتی۔ہزار قسم کی آلائشیں لگ جاتی ہیں۔اس دولت میں، کئی قسم کے نقصانات کئی قسم کی فکر کئی قسم کی بددیانتیاں اور پھر حکومت کی پکڑ کا خوف اور مصیبتیں اور اولاد کی برکت جاتی رہتی ہے، گھروں کے سکون اُٹھ جاتے ہیں اور ایسی دولت کے متعلق سمجھ نہیں آتی کہ اس سے سکون کیسے خریدا جائے کیونکہ جو بخل ہے ، جو خدا سے بخل کرتا ہے وہ دنیا میں بھی بخیل