خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 376
خطبات طاہر جلد 14 376 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء انکار کر دیا حتی کہ آزادی سے بھی انکار کر دیا جب تک پہلے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ انہوں نے غیب میں اس عورت کے خاوند سے بے وفائی یا غداری نہیں کی تھی جس کے گھر وہ پہلے تھے اور آزادی کس کو پیاری نہیں ہوتی مگر آپ نے کہا نہیں میں ایسی آزادی پر تھوکتا بھی نہیں جس کے ساتھ بد دیانتی کا داغ ہمیشہ لگا رہے۔پس بادشاہ سے کہو تمہارا شکریہ میں باہر نہیں آؤں گا جب تک یہ ثابت نہ کرو، پتا نہ کر لو کہ میں واقع ہی خیانت والا تھا یا خیانت سے پاک تھا۔جب یہ پتا چل گیا کہ غیب میں انہوں نے خیانت نہیں کی تھی تب وہ باہر تشریف لائے اور خدا تعالیٰ نے دیکھیں کس شان سے اس امانت کا حق ادا کیا کہ سارے ملک کی امانت کی چابیاں آپ کے سپرد کر دیں اور سارے ملک کے امین بنائے گئے۔اب ایک اور بات بھی جو وہاں میں نے پچھلے خطبہ میں ضمنا ذ کر کی تھی مگر اس وقت کھول نہیں سکا تھا مجھے یاد آئی ہے تو وہ بھی ساتھ پیش کرتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے دیانت اور تقویٰ کی خاطر اپنے اوپر داغ نہیں لگنے دیا اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے صرف یہی فضل نہیں کیا کہ اس وقت آپ کو سارے خزانوں کی کنجی تھی جو دی گئی بلکہ بچپن میں جو جھوٹا ایک الزام لگا تھا اس کا داغ بھی اسی واقعہ کے نتیجے میں دھویا گیا ہے کیونکہ جب یوسف کے بھائی آئے اور پھر وہ چوری کا الزام لگا تو اس وقت وہ چوری کا الزام دو طرح سے حضرت یوسف کے حق میں کام آگیا۔اول یہ کہ حضرت یوسف کے بھائی جنہوں نے حضرت یوسف پر چوری کا الزام لگایا تھا ان پر چوری کا الزام لگ گیا اور وہ خود سزا پا گئے اور دوسری طرف ان کے دل کا یہ کینہ باہر نکل آیا کہ اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی یعنی حضرت یوسف نے بھی چوری کی تھی یہ الزام انہوں نے اس وقت سے پال رکھا ہوا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے ان میں سے کئیوں کے دل میں واقعہ یہ یقین ہو تبھی اتنی دیر کے بعد ان کا خیال آیا کہ یوسف نے بھی ایک دفعہ چوری کی تھی اور حضرت یوسف کے سامنے خدا تعالیٰ نے ان کی گردنیں جھکا ئیں اور ثابت کر دیا کہ یوسف نے چوری نہیں کی تھی۔تو ایک دیانتداری کے نتیجہ میں اور خیانت کے داغوں سے بھی آپ کو پاک فرمایا گیا۔یہ ہے علِمُ الْغَيْبِ خدا جس کے ساتھ اگر آپ تعلق باندھیں تو غیب میں جیسا خدا ہم سے سلوک فرماتا ہے ویسا خدا کے بندوں سے بھی آپ غیب میں سلوک فرمانا شروع کریں اور اگر آپ غیب میں خدا کے بندوں سے ویسا سلوک فرمائیں گے تو اللہ پھر اپنے غیب سے اور نعمتیں آپ