خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 375
خطبات طاہر جلد 14 نہیں رہ سکتی۔۔۔“ 375 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء یعنی بظاہر بادشاہ حکمران ہے اور مخلوق اس کی محتاج ہے۔آپ فرماتے ہیں اگر بنظر غور دیکھ تو دنیا کا بادشاہ اتنا بے اختیار ہے کہ وہ اپنی رعیت کا محتاج ہے جبکہ اللہ اپنی مخلوق کا محتاج نہیں ہے اور اگر رعیت یہ فیصلہ کر لے کہ ہم اس وطن کو چھوڑ دیتے ہیں تو بادشاہ اکیلا اپنی بادشاہی کی جوتیاں چٹی تا پھرے گا، کچھ بھی اس کے پاس باقی نہیں رہے گا سوائے اس کے اپنا قدم، اپنے ہاتھ جو ذات کی طاقت ہے اس سے بڑھ کر اس کی کوئی بھی طاقت نہیں رہے گی لیکن اللہ تعالیٰ اس قسم کا بادشاہ نہیں ہے کیونکہ یہ تو ایک عیب ہے کہ ایک بادشاہ اپنی رعیت سے طاقت حاصل کرے اور کلیۂ اس کا محتاج ہو۔یہ ایک ایسا عیب ہے جو خدا کی بادشاہی میں نہیں ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں ” مثلاً اگر تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے تو پھر خراج شاہی کہاں سے آئے گا اب قحط کا وارد ہونا یا نہ وارد ہونا یہ بھی بادشاہت کی عظمت یا اس کی مفلوک الحالی سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے۔ایک ملک کو خدا تعالیٰ قحط زدہ کر دے تو بادشاہت جاری نہیں رہ سکتی۔نہ خراج ملے گا نہ غذائیت کے لیے کچھ پیٹ بھرنے کے سامان بادشاہ مہیا کر سکتا ہے۔نتیجہ فساد پھیلتے ہیں بغاوتیں ہوتی ہیں اور خزانے خالی ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ بعض دفعہ فوج اور پولیس کو دینے کے لئے بھی کچھ باقی نہیں رہتا۔اسی قسم کے ایک قحط کا ذکر سورۃ یوسف میں ملتا ہے کہ اس بادشاہی کو سہار املا تو اللہ کی بادشاہی سے ملا اور یہ مضمون ہے جو خاص طور پر پیش نظر رکھنا چاہئے۔سورۃ یوسف بڑے گہرے مضامین سے بھری پڑی ہے اس میں ایک یہ بھی ہے کہ دنیا کے بادشاہ کا یہ حال تھا کہ اس کو تو غیب کی اتنی بھی خبر نہیں تھی کہ کل کیا ہونے والا ہے، کل یہ ملک کس طرح قحط زدہ ہو جائے گا اور اگر پیش بندی نہ کی گئی تو سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہے گا۔بڑے آرام سے بیٹھا ہوا ہے۔اس ملک کو قحط سے بچانے والا وہ بادشاہ تھا جسے خدا نے بادشاہت عطا فرمائی تھی، جو الْمَلِكُ الْقَدُّوسُ کا نمائندہ تھا اس کو خدا نے خبر دی اور اس کے نتیجہ میں دنیا کی بادشاہت بچائی گئی۔پس اصل وہ بادشاہ ہے جو ہر دوسری بادشاہت کا سہارا بنتا ہے اگر سہارا بنے اور اگر نہ بنے تو ہر دوسری بادشاہت ہلاک ہو سکتی ہے۔اس ضمن میں میں نے آپ سے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے جو عیب کا مضمون باندھا ہے اپنے تعلق میں اس کا بھی ذکر کیا تھا۔انہوں نے خزانے کی چابیاں لینے سے انکار کر دیا یا کوئی بھی عہدہ قبول کرنے سے