خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد 14 351 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء ہے جس پر خدا نے اپنی ان صفات کو ختم فرمادیا جو پہلے کسی نبی پر ختم نہیں کی گئی تھیں لیکن نہ صفات باری تعالی ختم ہوئیں نہ ان کا فیض ختم ہوا ۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے جو خدا سے سیکھا اس کا فیض ہمیشہ کیلئے جاری وساری ہے۔ یہ حقیقی معنی ہے اس کے علاوہ جس نے جو کہنا ہے کہے، جو سوچیں سوچے سب جہالت کی باتیں ہیں ۔ عرفان کی بات وہی ہے جو میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صفات لا متناہی اور انسان کے تعلق میں اس کی آخری حد آنحضرت ﷺ پر روشن فرمادی گئی اور پھر آخری حد کے باوجود وہ سفر جاری وساری ہے ۔ اس کے باوجود خدا غیب میں چلا گیا ہے اور وقتاً فوقتاً غیب میں جاتا رہتا ہے اور زمانہ اس نسبت سے کبھی خدا کو تھوڑا سا شاہد دیکھتا ہے کبھی پھر غائب ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ یہ وہ صفت ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ صفات جو رسول الله ﷺ پر جلوہ گر ہوئی تھیں اس پہلو سے بھی ابھی ان میں سفر باقی ہے اور بہت بڑا سفر باقی ہے کہ ان کی اکثریت کی کنبہ کو انسان نہیں سمجھ سکا اور اکثریت نے خدا کی ذات میں سفر نہیں شروع کیا۔ اب غیب ایک مضمون ہے جو خدا تعالیٰ کی صفت نہیں ہے۔ لیکن شہادہ ایک ایسا مضمون ہے جس میں حدیث میں شہید کو خدا تعالیٰ کے ناموں میں داخل فرما لیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو غائب کہیں نہیں کہا لیکن شہید فرمایا ہے۔ اس پر جب میں نے غور کیا کہ کیوں بظاہر ایک ہی آیت کے دو جز ہیں ان میں سے ایک کو صلى الله چھوڑ دیا گیا ہے اور ایک کو آنحضرت ﷺ نے اسماء الہی میں داخل فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صلى الله جہاں تک خدا کی غیو بیت کا تعلق ہے بحیثیت غیب کے اس کو نظر پہنچ ہی نہیں سکتی ۔ جب تک وہ شہادت میں نہ آئے ہم اسے دیکھ ہی نہیں سکتے اور قرآن کریم فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ * وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام: 104 ) کہ بصائر اس تک نہیں پہنچ سکتیں ہاں وہ خود منصہ شہود پر ابھر کر بصائر تک پہنچتا ہے اور آنحضرت ﷺ پر چونکہ خدا سب سے زیادہ روشن ہوا تھا اس لئے آپ نے اس بار یک فرق کو پیش نظر رکھا ہے ۔ ورنہ ایک عام انسان جو اپنے نفس سے تفسیر کرتا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ عَلِمُ الْغَيْبِ بھی ہے عالم الشهاده بھی ہے۔ اگر وہ شہید ہے تو پھر غائب بھی ہے لیکن جہاں تک مخلوقات کا تعلق ہے وہ غائب نہیں ہے۔ یہ مضمون ہے کیونکہ اگر وہ غائب ہو جائے تو پھر مخلوق سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اس لئے وہ شہید ہے اور جن معنوں میں وہ غائب ہے ان معنوں میں