خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 338

خطبات طاہر جلد 14 338 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء یہ بھی پیشگوئی تھی کہ جو بچہ آج پیدا ہو گا وہ سو سال سے زیادہ عمر نہیں پائے گا۔جو اس سے پہلے تھے وہ پاسکتے تھے چنانچہ بعض صحابہ کی عمر سو سے اوپر ہوئی لیکن اس فرمان سے پہلے پیدا ہو چکے تھے۔اب سو سال میں ایک پورا عالم بدل گیا۔یعنی عالم ایسا بدلا کہ تمام جو عالم کو سمجھنے والے تھے ہر ایک کی سوچ میں ایک عالم تھا اب سب کا مجموعہ بدل گیا۔عالم کے سمندر کا قطرہ قطرہ بدل گیا اور اس کے باوجود عالم اپنی جگہ قائم تھا لیکن اس کی سوچ بدل گئی، اس کی کیفیات بدل گئیں اور ان میں پھر ایسے بھی لوگ تھے جو باشعور تھے جو اللہ سے تعلق رکھتے تھے ان کی سوچوں میں عالم کا کچھ اور ہی مطلب تھا، کچھ دہریہ اور دنیا دار اور بگڑے ہوئے اہل کتاب بھی تھے جن کے ہاں عالم کی کوئی اور تصویر تھی تو حقیقت میں ہرزمانے کا انسان ایک عالم کی سوچ لے کر پیدا ہوتا ہے، ایک عالم کی سوچ لے کر مر جاتا ہے اور وہ خود غیب سے آتا ہے اور غیب میں داخل ہو جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جس کا آغاز غیب ہو ، جس کا انجام غیب ہو ، وہ غیب پر ہی غور نہ کرے؟ آخر آیا کہاں سے اور کیوں آیا ہے اور کدھر جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرہ: 157) کہ جس غیب سے تم ابھرے ہو وہ عدم نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے اللہ موجود تھا اور اللہ کی قدرت سے تم وجود میں آئے ہو اس کی طاقتیں لے کر اس کے امر کے ساتھ ، جتنی تم کو عطا کی گئیں ان کو لے کر آئے ہو لیکن پھر آگے جواب رہی ہے اور تم نے واپس اسی غیب میں ڈوبنا ہے جس غیب سے ابھرے ہو اور وہاں وہی خدا موجود ہو گا، تو تم وقتی طور پر غیب سے شاہد کی دنیا میں ابھرے ہو لیکن پھر تم نے غیب کی دنیا میں ڈوب جانا ہے اور تمہارا رحمان خدا بحیثیت رحیم تمہارا منتظر ہو گا۔اب جو جوابدہی ہے وہ دراصل رحیم کے سامنے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو فرمایا ہے علم الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ساتھ فرمایا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیم وہ رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔رحمان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں جہاں قلم اٹھایا ہے یا لب کشائی فرمائی وہاں اس مضمون پر زور دیا کہ رحمان وہ ذات ہے جو در حقیقت بن مانگے دینے والی یعنی عدم سے اس طرح پیدا کرنے والی کہ اس کا مطالبہ کرنے والا ابھی تھا ہی کچھ نہیں اور کامل طور پر غیب پر رحمان کی حکمرانی ہے۔غیب سے جو رونما ہوتا ہے وہ غیب کے سہارے، اس کے امر سے رونما ہوتا ہے۔رحمان کے سہارے اور رحمان کے امر سے رونما ہوتا ہے۔اس کے بعد رحمانیت ایک اور