خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 329
خطبات طاہر جلد 14 329 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء خدا کی غیب پر بلا شرکت غیر کامل راج دہانی ہے غیب کی عبادت کرو گے تو تمہیں تو حید کے معنی سمجھ آئیں گے خطبه جمعه فرمودہ 12 مئی 1995 ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (الحشر : 23 ) پھر فرمایا:۔( صفات باری تعالیٰ کا جو مضمون شروع ہے یہ بعض پہلوؤں سے آسان ہے، بعض پہلوؤں سے مشکل اور جو مشکل پہلو ہیں ان کی دراصل انتہاء کوئی نہیں وہ لامتناہی سلسلہ ہے۔مثلاً صفت ربوبیت کو لیں ہر چیز جو کائنات میں کسی نہ کسی ذریعے سے زندہ رہ رہی ہے وہ اول طور پر صفت ربوبیت کا مظہر بھی ہے اور اس کی واقف بھی ہے۔ادنیٰ سے ادنی کیڑا، زندگی کی ادنی قسم کو لیجئے اس کا رب سے واسطہ ہے لیکن وہ چیز اس واسطے سے جو رب کو سمجھ رہی ہے، رب وہاں ختم تو نہیں ہو جاتا۔رب تو اس پہلو سے شروع ہوتا ہے بلکہ اس سے آگے بھی شروع ہے اور اس کو یہ بھی نہیں پتا کہ مجھ سے ادنی کون سے حالتیں ہیں جور بوبیت کی محتاج ہیں اور پھر جوں جوں آگے ترقی ہوتی چلی جاتی ہے ربوبیت زیادہ شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔مادی دنیا میں بھی ربوبیت کا یہی منظر ہے صلى الله روحانی دنیا میں بھی یہی مظہر ہے اور وہ خدا جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ربوبیت سے جلوہ گر ہوا جس