خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد 14 317 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء آپ کے سطحی نتیجے کو غلط قرار دے رہی ہوں۔تو عالم الحق ہونے کے لئے محض عالم الشہادۃ ہونا کافی نہیں اور اور حقیقت میں عالم الشهادة ہونے کے لئے عالم الغیب ہونا ضروری ہے۔جو علِمُ الْغَيْبِ نہیں وہ عالم الشهادة ہو ہی نہیں سکتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے عالم الغیب سے بات شروع کی ہے شہادۃ سے نہیں کی، حالانکہ بظاہر یہ ترتیب دکھائی دیتی ہے کہ پہلے شہادہ کی بات ہو جو پہلی منزل ہے۔غیب کی باتیں تو بعد میں ہونی چاہئیں لیکن اگر آپ گہرائی میں اتر کر مضمون پر غور کریں تو یہی ترتیب درست ہے۔کوئی دیکھنے والی آنکھ جب تک غیب کا علم نہ رکھتی ہو یا غیب کے علم کو جاننے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو وہ عالم الشهادة بھی نہیں ہے اور انسان کو نسبتی طور پر یہ مقام عطا ہوتے ہیں۔جو آدمی صاحب فراست ہے وہ ایک شخص کی ظاہری باتوں، ظاہری حرکتوں سے وہ نتیجہ نہیں نکالتا جو صاحب فراست نہیں ہے۔ایک بھولا آدمی جو کچھ کہے کہتا ہے ٹھیک ہے جی اس نے کہا میں ایسا ہوں ایسے ہی ہوگا۔لیکن جو عالم الشہادۃ حقیقت میں ہے اس کو ضرور کچھ نہ کچھ عالم الغیب ہونا پڑتا ہے۔وہ اس کی اداؤں سے پیچھے اس کی چھپی ہوئی باتیں پہچانتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو ان کو حسن العقول سے پہچانتا ہے ان کے اس کے چہروں کے آثار سے جانتا ہے۔اس لئے کہ آپ نے عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ سے ایسا تعلق باندھا کہ اس سے حقیقت میں کچھ غیب کا علم حاصل کرنے کی صلاحیت بھی حاصل فرمائی لیکن یہ وہ غیب نہیں ہے جس میں خدا اکیلا رہ جاتا ہے اور اس کی توحید سے تعلق رکھتا ہے۔یہ وہ غیب ہے جو خدا سے تعلق کے نتیجے میں انسان کی فراست کے چمکنے سے انسان کو بھی عطا ہوتا ہے۔تو آپ اپنے معاملات میں دیکھ لیں جس شخص کو غیب کے جاننے کی صلاحیت نہ ہو وہ کسی چیز میں حقیقت میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ہر دنیا کی چیز سے دھوکہ دے سکتی ہے ،نظر میں کوئی چیز اور آرہی ہوتی ہے حقیقت میں کوئی چیز اور ہوتی ہے۔کسی کی عبادات کو دیکھ کر آپ اسے نیک سمجھ لیں کسی کی قسموں پر جا کر آپ اس سے سودے کر بیٹھیں، کسی کے حلیہ، داڑھی وغیرہ دیکھ کر کہیں کہ بہت متقی پارسا ہے، یہ ساری ایسے عالم الشہادۃ کی باتیں ہیں جس کا غیب سے تعلق کٹ گیا ہے اور اللہ جسے غیب کا علم عطا نہ کرے اسے غیب کا علم عطا ہو نہیں سکتا۔پس اس پہلو سے علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کی